وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بازار دوپہر کے بعد کھلتے ہیں اور نصف شب کے بعد بند ہوتے ہیں، جس کے باعث توانائی اور قومی وسائل کا بڑے پیمانے پر ضیاع ہو رہا ہے، بازاروں کے کھلنے، بند ہونے کے اوقات قومی معیشت پر بوجھ بن گئے ہیں۔
سوشل میڈیا ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بازاروں کے اوقات کار کا مسئلہ کئی مرتبہ ہر سطح پر اٹھایا گیا مگر تاجر برادری کے اثر و رسوخ کے باعث حکومتیں مؤثر فیصلے کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بحران میں پیٹرولیم قیمتوں میں محدود اضافہ قابلِ تعریف ہے، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ ملک میں برسوں سے بجلی بحران کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب بجلی چوری کو بعض حلقوں میں حق سمجھ لیا گیا ہے۔
وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ھے جہاں بازار دوپہر کے بعد کھلتے ھیں اور نصف رات کے بعد بند ھوتے ھیں۔ کئی دفعہ ھر سطح پہ یہ مسئلہ اٹھایا ھے مگر تاجر حضرات کی طاقت کے سامنے حکومتیں لاچار ھیں ۔ سالوں سے بجلی کا رونا رویا جاتا ھے۔ بجلی چوری حق سمجھ کے کی جاتی ھے۔ اللہ نے ھمیں بارہ مہینے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 26, 2026
وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سال کے 12 مہینے سورج کی روشنی سے نوازا ہے، مگر اس کے باوجود کاروباری سرگرمیاں رات کے اندھیرے میں بجلی کے استعمال پر انحصار کرتے ہوئے جاری رکھی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں مغرب کے بعد بازار بند ہو جاتے ہیں اور ہفتے میں کم از کم ایک مکمل چھٹی بھی دی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی واضح نظم موجود نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بڑے شہروں میں ایسی مارکیٹیں موجود ہیں جہاں بجلی چوری کے ذریعے کاروبار کیا جاتا ہے، جو معاشی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے تشویش ناک ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مختلف معاملات پر بھرپور بحث کی جاتی ہے مگر بازاروں کے اوقات اور توانائی کے ضیاع کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان اور ٹی ٹی پی بھارت سے ملے ہیں، کے پی حکومت کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، خواجہ آصف کا انکشاف
انہوں نے مزید کہا کہ جب مارکیٹیں رات گئے تک کھلی رہیں تو لوگوں کو اپنے بچوں اور خاندان کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کفایت شعاری کی بات تو کرتی ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس میں بجلی بچانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم بازاروں کے اوقات کار میں تبدیلی پر سنجیدہ توجہ نہ دینا ایک واضح تضاد ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جب ریاستی سطح پر اس نوعیت کا تضاد موجود ہو تو عام شہری سے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی توقع کمزور پڑ جاتی ہے۔














