ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کو اپنا کردار سہولت کار سے مصالحت کار تک بڑھانا چاہیے، سابق سفیر ضمیر اکرم

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق سفیر ضمیر اکرم نے کہا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کو اپنا کردار سہولت کار سے مصالحت کار تک بڑھانا چاہیئے، مذاکرات کے کامیاب ہونے کا دارومدار دونوں فریقین پر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور دونوں کو اپنے مطالبات سے نیچے اُس سطح پر آنا ہو گا جہاں سمجھوتہ ہوسکے۔

پاکستان کے سابق سفیر ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کو اپنا کردار سہولت کار سے مصالحت کار تک بڑھا کر امریکا کو یہ باور کرانا ہو گا کہ وہ ایرانی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے لیکن فی الوقت دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق

مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اِس کا دارومدار دونوں فریقین پر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور دونوں کو اپنے مطالبات سے نیچے اُس سطح پر آنا ہو گا جہاں سمجھوتہ ہو سکے۔ ابھی امریکا کے مطالبات بلند ترین سطح پر ہیں جن سے اُسے نیچے آنا ہو گا۔

بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر کے پاکستان بارے دئیے گئے بیان پر بات کرتے ہوئے ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ پاکستان کو بدمعاش ایٹمی ریاست کہنا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات ہے، اسرائیل خود ایک بدمعاش ریاست ہے۔ ہمیں اس بیان کو اہمیت نہیں دینی چاہیئے بلکہ اس بات کو اہمیت دینی چاہیئے کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیل کو بھی پتہ ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کر سکتا ہے اور منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔

کیا ایران امریکی شرائط پر آمادہ ہو گا؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ امریکا نے نیوکلیئر رول بیک کے حوالے جو شرط عائد کی ہے اُس کے بارے میں ایران کا یہ کہنا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا، لیکن پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے 90 فیصد افزودہ یورینیم درکار ہوتی ہے لیکن یہ بات امریکا بھی تسلیم کرتا ہے کہ ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے مابین ثالثی: پاکستان کے نمایاں کردار پر بھارت میں ہنگامہ، کانگریس نے مودی حکومت کو دھو ڈالا

ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں ہونے والے گزشتہ مذاکرات میں ایران افزودہ یورینیم کو 60 فیصد سے کم کرنے پر تیار تھا اور ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کے لیے بھی تیار تھا۔ ایران کے اِس مؤقف کے بعد سمجھوتہ ہو سکتا تھا لیکن اصل بات اعتماد کی ہے۔ امریکا نے دوبار مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ اس لیے ایران کو گارنٹی چاہیے کہ حملہ نہیں ہو گا۔

اسرائیل اِس جنگ کو کب تک چلا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ امریکا اسرائیل کے پیچھے کھڑا ہے باوجود اِس کے کہ امریکا میں رائے عامہ مخالف ہوچکی ہے لیکن اسرائیلی لابی بہت مضبوط ہے۔ وہ کاروبار، میڈیا اور اداروں کے اندر تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہ جنگ اور گزشتہ سال کی جنگ دونوں دفعہ اسرائیل نے امریکا کو اِس جنگ میں دھکیلا۔

مذاکرات ہوں گے یا نہیں ہوں گے کہنا مشکل ہے

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ اِس جنگ بندی کے لیے پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے لیکن اِس وقت تک کوئی یقینی بات نہیں کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں ہوں گے یا کامیاب ہوں گے، یہ کہنا مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، چین

پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ہم نے اسرائیل کے حملے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ ہمارے ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، اس لیے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے اسرائیل کے علاوہ تمام فریقین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور سب پاکستان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔

ایران میزائلوں کی تیاری میں تخفیف پر راضی نہیں ہوگا

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ میزائلوں کی تیاری کے حوالے ایران تیار نہیں ہوگا کیونکہ اس طرح اُس کی دفاعی قوّت ختم ہو جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشرق و سطیٰ کشیدگی: اسلام آباد میں آج پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

اسپیکر ایاز صادق کی ہدایت پر پارلیمنٹ ہاؤس میں ارتھ آور کی تقریب، ایک گھنٹے کے لیے لائٹس بند

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟