سابق سفیر ضمیر اکرم نے کہا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کو اپنا کردار سہولت کار سے مصالحت کار تک بڑھانا چاہیئے، مذاکرات کے کامیاب ہونے کا دارومدار دونوں فریقین پر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور دونوں کو اپنے مطالبات سے نیچے اُس سطح پر آنا ہو گا جہاں سمجھوتہ ہوسکے۔
پاکستان کے سابق سفیر ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کو اپنا کردار سہولت کار سے مصالحت کار تک بڑھا کر امریکا کو یہ باور کرانا ہو گا کہ وہ ایرانی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے لیکن فی الوقت دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق
مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اِس کا دارومدار دونوں فریقین پر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور دونوں کو اپنے مطالبات سے نیچے اُس سطح پر آنا ہو گا جہاں سمجھوتہ ہو سکے۔ ابھی امریکا کے مطالبات بلند ترین سطح پر ہیں جن سے اُسے نیچے آنا ہو گا۔
بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر کے پاکستان بارے دئیے گئے بیان پر بات کرتے ہوئے ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ پاکستان کو بدمعاش ایٹمی ریاست کہنا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات ہے، اسرائیل خود ایک بدمعاش ریاست ہے۔ ہمیں اس بیان کو اہمیت نہیں دینی چاہیئے بلکہ اس بات کو اہمیت دینی چاہیئے کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیل کو بھی پتہ ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کر سکتا ہے اور منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔
کیا ایران امریکی شرائط پر آمادہ ہو گا؟
اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ امریکا نے نیوکلیئر رول بیک کے حوالے جو شرط عائد کی ہے اُس کے بارے میں ایران کا یہ کہنا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا، لیکن پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے 90 فیصد افزودہ یورینیم درکار ہوتی ہے لیکن یہ بات امریکا بھی تسلیم کرتا ہے کہ ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے مابین ثالثی: پاکستان کے نمایاں کردار پر بھارت میں ہنگامہ، کانگریس نے مودی حکومت کو دھو ڈالا
ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں ہونے والے گزشتہ مذاکرات میں ایران افزودہ یورینیم کو 60 فیصد سے کم کرنے پر تیار تھا اور ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کے لیے بھی تیار تھا۔ ایران کے اِس مؤقف کے بعد سمجھوتہ ہو سکتا تھا لیکن اصل بات اعتماد کی ہے۔ امریکا نے دوبار مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ اس لیے ایران کو گارنٹی چاہیے کہ حملہ نہیں ہو گا۔
اسرائیل اِس جنگ کو کب تک چلا سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ امریکا اسرائیل کے پیچھے کھڑا ہے باوجود اِس کے کہ امریکا میں رائے عامہ مخالف ہوچکی ہے لیکن اسرائیلی لابی بہت مضبوط ہے۔ وہ کاروبار، میڈیا اور اداروں کے اندر تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہ جنگ اور گزشتہ سال کی جنگ دونوں دفعہ اسرائیل نے امریکا کو اِس جنگ میں دھکیلا۔
مذاکرات ہوں گے یا نہیں ہوں گے کہنا مشکل ہے
ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ اِس جنگ بندی کے لیے پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے لیکن اِس وقت تک کوئی یقینی بات نہیں کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں ہوں گے یا کامیاب ہوں گے، یہ کہنا مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، چین
پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ہم نے اسرائیل کے حملے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ ہمارے ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، اس لیے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے اسرائیل کے علاوہ تمام فریقین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور سب پاکستان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔
ایران میزائلوں کی تیاری میں تخفیف پر راضی نہیں ہوگا
ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ میزائلوں کی تیاری کے حوالے ایران تیار نہیں ہوگا کیونکہ اس طرح اُس کی دفاعی قوّت ختم ہو جائے گی۔













