یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان نے سفارتی محاذ پر خاصا اچھا کام کیا ہے۔ خاص کر پچھلے سال مئی میں پاک بھارت جنگ میں بھارت کو شکست دینے کے بعد پاکستانی سول ملٹری قیادت نے فارن پالیسی کے حوالے سے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔
اب اسی حالیہ ایران امریکا / اسرائیل جنگ کو دیکھ لیں، اس میں بھی پاکستان نے بہت اچھے طریقے سے اپنے سفارتی کارڈز کھیلے ہیں۔ یہ امکان بھی پیدا ہوا ہے کہ پاکستان کی وجہ سے کوئی بڑا بریک تھرو مل جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تب سے پاکستان میں بعض حلقے خوش ہونے کے بجائے ناخوش اور مایوس نظر آنے لگے ۔ سوشل میڈیا پر یہ ناراضگی، خفگی، برہمی اور فرسٹریشن واضح محسوس ہو رہی ہے۔ ایک سیاسی حلقے نے تو باقاعدہ اس پر طنز وتضحیک کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
طریقہ کار یہ اپنایا جاتا ہے کہ ان کے سوشل میڈیا سیلز سے وابستہ کوئی قلمی پہلوان ایک طنزیہ پوسٹ لکھ دے گا جس میں پاکستان پر طنز ،طعن اور ملامت ہوگی، تضحیک آمیز جملے ہوں گے، موجودہ حکومت کا مذاق اڑایا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ ان کمنٹس یا پوسٹوں کو پھر دھڑا دھڑ مختلف سوشل میڈیا فورمز پر کاپی پیسٹ کیا جائے گا۔ پھیکی جگتیں، پامال لطیفے اور سڑے سڑے تبصرے ان میں شامل ہوتے ہیں۔
ایک طنزیہ کمنٹ سینکڑوں جگہ دیکھا کہ ’پاکستان کو ایران سے سستا تیل لینے کی اجازت نہیں اور یہ اتنی بڑی جنگ رکوائے گا۔‘اس کمنٹ کےساتھ بھارت کی تعریف کی گئی کہ اس نے اتنا تیل خرید لیا وغیرہ۔
حد ہی ہو گئی، پہلی بات یہ کہ پاکستان کو جب سعودی عرب سے اچھا، سستا تیل دستیاب ہے تو پاکستان ایران سے کیوں تیل خریدے؟ دوسرا ہماری ریفائنری سعودی تیل کے حساب سے ہیں، ایرانی تیل کی کوالٹی کچھ ناقص ہے اور کوئٹہ میں ایرانی تیل استعمال کرنے والے یہ بات جانتے ہیں۔ ایرانی یا روسی تیل کے لیے الگ سے ریفائنریز کی ضرورت پڑے گی یا موجودہ میں تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔ پاکستان مگر یہ کیوں کرے؟
میرے جیسے لوگ جنہیں اپنی پیشہ ورانہ صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں اہم عالمی اخباروجرائد دیکھنا پڑتے ہیں، ہم تو اس پر خوش ہیں کہ فنانشل ٹائمز، گارڈین، نیویارک ٹائمز، ایشیا نکئے اور دیگر اہم عالمی اخبارات، جرائد میں پاکستان کے حوالے سے بہت مثبت اور ستائشی مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ ایسا ہم نے کم ہی دیکھا تھا، اس لیے اس پر دل شاد ہوا ہے۔
ایشیا نکئے نے اپنی رپورٹ میں وہ چار نکات گنوائے ہیں جن کی بنا پر پاکستان نے یہ ثالثی کی اہم پوزیشن حاصل کی ہے۔
اس رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ پہلے پاکستان نے کئی بار سہولت کار کا کردار ادا کیا، تاہم اب وہ باقاعدہ ثالثی کرا رہا ہے اور موجودہ سفارتی حیثیت پاکستان کو ایک موثر ثالث بنا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ کا اعتماد حاصل کیا ہے اور امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ان کے اچھے ورکنگ تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کو ایران کا بھی اعتماد حاصل ہے کیونکہ گزشتہ سال جون کی جنگ اور موجودہ تنازع میں پاکستان نے ایران کی سفارتی اور سیاسی حمایت کی تھی۔‘
ایشیا نکئے کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر پاکستان تعلقات کو معمول پر لانے میں کردار ادا کرتا ہے تو وہ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے اپنی عالمی حیثیت مضبوط کر سکتا ہے، خاص طور پر بھارت کے مقابلے میں۔ جبکہ ایران کے ساتھ تجارت اور رابطوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو امریکی پابندیوں کی وجہ سے اب تک پوری طرح استعمال نہیں ہو سکے۔
دوسری طرف نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستان اپنے اس ثالثی کے کردار کے ساتھ عالمی سیاست میں نمایاں ہوا ہے جبکہ بھارت پس منظر میں جا رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بھارت کے ایک معروف سیاستدان جے رام رمیش کا حوالہ دے کر کہا کہ مودی حکومت کو پاکستان کی بہتر سفارتی حکمت عملی اور بیانیہ سازی نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اس صورتحال کا ایک بہت اہم اور بڑا پہلو بھارت کی پسپائی، ناکامی اور اس کا سفارتی محاذ پر پیچھے رہ جانا ہے۔ کرکٹ کی اصطلاح میں پاکستان نے اس حوالے سے انڈیا کو آؤٹ کلاس کر دیا ہے، خاصے فاصلے سے پیچھے چھوڑ دیا۔ انڈیا جو گلوبل ساؤتھ کا نمائندہ بننے کی کوشش کر رہا تھا، بزعم خود ’وشو گرو‘بن رہا تھا، وہ اس پورے منظرنامے میں کہیں بھی نظر نہیں آ رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود مختلف انڈین تجزیہ کار، سابق بھارتی سفیر، ریٹائر جنرل اور بیشتر سیاسی لیڈر جماعتوں کے سیاستدان وزیراعظم مودی کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
مودی جی خود کو اس خطے کا نجات دہندہ اور مسیحا سمجھتے تھے، ان کا خیال تھا کہ وہ ہر مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔اب اتنے بڑے کرائسس میں کوئی بھارت کو پوچھ تک نہیں رہا۔ یہ بات ان سب کو تنگ کر رہی ہے جو بھارت کے مہان ہونے کے دعوے دار تھے۔ اس کی وجہ یٍہ ہے کہ بھارت نے خود کو پارٹی بنایا۔ وہ اسرائیل کی طرف بہت زیادہ جھک گیا۔ اس کے برعکس پاکستانی قیادت نے بڑی سمجھداری سے اپنے کارڈز کھیلے، عقلمندی کے ساتھ جنگ کے تمام فریقوں کا اعتماد حاصل کیا اور اب اسی کا ثمر مل رہا ہے۔
پاکستان نے جنگ کے دونوں فریقین کے مابین پل بننے کی کوشش کی ہے۔ یہ کوشش کامیاب ہو یا ناکام ہو، اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان کے خلوص، غیر جانبداری اور اس کی امن کے لیے جینوئن نیس ثابت ہوچکی ہے۔ عالمی تجزیہ کار اسے موجودہ پاکستانی سول ملٹری قیادت کی بڑی کامیابی اور مودی ڈاکٹرائن کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کو بڑا سفارتی دھچکا لگا ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی پر ہم سب کو خوش ہونا چاہیے۔
اس صورتحال کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ایران بھی صورتحال کو سمجھے، اگر اسرائیل یا امریکا کی ہٹ دھرمی سے امن مذاکرات ناکام ہوں تب بھی اسے خلیجی ممالک کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ اسرائیل کی یہ شدید خواہش ہے کہ عرب ایران جنگ چھڑ جائے۔ اب تک ایسا نہیں ہوا، اس کی وجہ عرب ممالک خاص کر سعودی عرب کا غیر معمولی تحمل ہے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ اسرائیلی ایجنڈے کو ناکام بنائے اور ٹریپ ہونے سے گریز کرے۔
اللہ کرے کہ امن قائم ہو اور جنگ رک جائے، تاہم ماہرین ابھی اسے ففٹی ففٹی چانس ہی قرار دے رہے ہیں۔ یہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ پاکستانی قیادت نے البتہ اس موقعہ سے اچھا فائدہ اٹھایا ہے اور امن کا پیامبر بن کر سامنے آیا۔ یہ ہمارے لیے دل خوش کن لمحہ ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












