یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو سعودی عرب کا اچانک دورہ کیا، ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث خلیجی ممالک میں یوکرین کی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، زیلنسکی نے جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یوکرین بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ پر بھی بات چیت ہوئی۔
مزید پڑھیں:ایران کے سعودی عرب پر حملے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہیں، علما کا مؤقف
زیلنسکی نے ملاقات سے قبل سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں سعودی عرب پہنچ گیا ہوں، اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ہم حمایت کی قدر کرتے ہیں اور ان تمام ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں جو سیکیورٹی کے قیام میں ہمارے ساتھ تعاون چاہتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون، بالخصوص فضائی حدود کے تحفظ سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
یوکرین اپنی اس مہارت کو استعمال کرنا چاہتا ہے جو اس نے روسی ڈرون حملوں کو ناکام بنانے میں حاصل کی ہے، تاکہ خلیجی ممالک کی مدد کی جا سکے، جہاں ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز سے ملتے جلتے حملوں کا سامنا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق جنگ کے آغاز (فروری 2022) سے اب تک 200 سے زائد یوکرینی اینٹی ڈرون ماہرین کو مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات کیا جا چکا ہے۔
یوکرین کم لاگت والے ڈرون انٹرسیپٹرز، الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز اور اینٹی ایئرکرافٹ گنز کے امتزاج کو شاہد ڈرونز کے خلاف مؤثر دفاعی نظام کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کی سفارتی کوششوں پر سعودی عرب کا خراجِ تحسین
کیف نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ وہ اپنے انٹرسیپٹر سسٹمز کے بدلے خلیجی ممالک سے مہنگے فضائی دفاعی میزائل حاصل کرے، کیونکہ اسے روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید میزائل درکار ہیں۔
گزشتہ سال بھی سعودی عرب نے امریکی حکام کی میزبانی میں یوکرین اور روس کے نمائندوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مذاکرات کرائے تھے، جن کا مقصد 2022 میں روس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کی راہ تلاش کرنا تھا۔














