مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پنجاب میں پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صوبائی صدر بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد ناراض لیگی رہنماؤں کو منانا، کارکنوں کو متحرک کرنا اور صوبے میں پارٹی کی تنظیمی ساکھ کو بحال کرنا ہے۔
حمزہ شہباز شریف کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اگر قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف یہ فیصلہ کرتے ہیں تو حمزہ شہباز شریف یہ ذمہ داری لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز چاہتے ہیں کہ پنجاب میں پارٹی کو فعال اور متحرک کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ حمزہ شہباز کو وفاقی عہدے کی پیشکش کی گئی تھی، مگر انہوں نے صوبائی سطح پر سیاسی کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی، جس کے بعد انہیں صوبائی صدر بنانے کا آپشن زیر غور آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے نواز شریف کی ہدایت کے باوجود حمزہ شہباز پارٹی امور میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہے؟
حمزہ شہباز شریف اس وقت مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر ہیں۔ انہوں نے مئی 2018 سے یہ عہدہ سنبھال رکھا ہے۔ 2019 میں رانا ثنا اللہ خان کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صدر بنایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ اب وفاقی امور میں مصروف ہیں اور پارٹی کارکنوں کو وقت نہیں دے پا رہے، جس کی وجہ سے صوبائی سطح پر تنظیمی کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے مشرف دورِ حکومت (1999-2008) میں جلاوطنی کے زمانے میں حمزہ شہباز نے پارٹی کو چلایا اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھا۔ نواز شریف نے اپنے متعدد خطابات میں حمزہ شہباز کو اپنا اگلا جانشین قرار دیا تھا۔ حمزہ شہباز نے حال ہی میں پنجاب کے مختلف اضلاع کے صدور سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اور پارٹی کو مزید متحرک کرنے کے حوالے سے ان سے تجاویز بھی طلب کی ہیں۔
تنظیمی تبدیلیاں متوقع
اگر حمزہ شہباز صوبائی صدر بنتے ہیں تو فوری طور پر تنظیم سازی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکرٹری انفارمیشن کا عہدہ تبدیل کیا جائے گا، جبکہ جنرل سیکرٹری پنجاب اویس لغاری اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ حمزہ شہباز کی بطور صوبائی صدر تعیناتی کا حتمی فیصلہ نواز شریف کی منظوری کے بعد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز گمنامی میں چلے گئے ہیں؟
ذرائع کے مطابق پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں اور نواز شریف کی زیر صدارت جلد ہی ایک اہم اجلاس بلایا جائے گا جس میں یہ فیصلہ حتمی شکل اختیار کرے گا۔
حمزہ شہباز شریف پہلے کبھی مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر نہیں بنے، تاہم اعلیٰ قیادت پنجاب میں پارٹی کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے اس آپشن کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔














