امریکی اخبار کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے امن کے قیام کے لیے متحرک اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، جس میں اعلیٰ سطح کے مسلسل ٹیلیفونک رابطے نمایاں رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت نے نہ صرف خطے کے اہم ممالک بلکہ عالمی سطح پر بھی مختلف دارالحکومتوں کے رہنماؤں سے براہ راست رابطے کیے، جن میں تہران، ریاض، ابوظہبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز شامل ہیں۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اہم غیر جانبدار فریق کے طور پر خطے میں سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے، امریکی قانون ساز
امریکی اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں ایک منفرد سفارتی برتری حاصل ہے کیونکہ اس کے روابط ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہیں تو دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ بھی قریبی سفارتی تعلقات موجود ہیں، جس سے اسے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ پل کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس پوری سفارتی کوشش میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور مسلسل رابطوں کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔
دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈے فول نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے ہوچکے ہیں اور اب دونوں ممالک کے درمیان براہ راست ملاقات کے امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کو اپنا کردار سہولت کار سے مصالحت کار تک بڑھانا چاہیے، سابق سفیر ضمیر اکرم
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان جلد ملاقات متوقع ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ اہم ملاقات پاکستان میں بھی ہو سکتی ہے، جو خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔













