بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اقوام متحدہ میں عمران خان کے حوالے سے لکھی ہوئے تقریر کی، جس میں انہوں نے حکومتِ پاکستان پر متعدد الزامات لگائے، تنقید تو قاسم نے حکومت پر کی ہے، لیکن اقوام متحدہ اسے سنجیدہ سمجھے تو اس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔
یہ اور بات ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی رہنما باتوں کی حد تک تنقید اور حقائق کو جانتے سمجھتے ہیں۔ دنیا ہر ملک کی اپنی پالیسی، خود مختاری اور اندرون معاملات کا احترام کرتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ایرا غیرا اُٹھ کر اقوام متحدہ پہنچے اور اپنی حکومت و ریاست کے خلاف کچھ بھی کہے اور دنیا پریشر گروپ کا کردار ادا کرنا شروع کرے۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ، یورپ و امریکا میں پی ٹی آئی کی کڑوروں انویسٹمنٹ اور متعدد لابیز کو ہائیر کرنے کے اب تک وہاں سے کوئی خاطر خواہ ریلیف حاصل نہیں کرسکے۔ قاسم خان بھی دیگر فرار پی ٹی آئی رہنماؤں کے طرح ناکام ہی ٹھہرے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا قاسم خان دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرح عمران خان کے لیے ریلیف فراہم کرنا چاہتے ہیں یا وہ اپنے اعمال سے والد بزرگوار کو مزید پھنسا رہے ہیں؟
پہلے پی ٹی آئی رہنماؤں کی بات کرتے ہیں، پاکستان اور بیرون ملک موجود پی ٹی آئی رہنماؤں کا گزشتہ 2سالہ ریکارڈ دیکھا جائے تو ان کے روزمرہ کے اعمال اور بیانات عمران خان کو رہائی کے لیے نہیں، بلکہ مزید پھنسانے کے لیے ہیں۔ آج خود پی ٹی آئی کارکنان اپنے رہنماؤں پر الزامات لگاتے ہیں اور ان سے نالاں ہوچکے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی موج لگی ہوئی ہے، یہ وہ کھمبے تھے جنہوں نے عمران خان کی وجہ سے ووٹ لیے اور اب روز انہیں ٹی وی پر بیٹھ کر باشن جھاڑنے کا موقع مل رہا ہے۔
ان رہنماؤں کو پتا ہے کہ عمران خان رہا ہوئے تو بنی گالا یا زمان پارک میں ان سے سوٹے پکڑوا کر چوکیداری ہی کروانی ہے، اس سے پہلے ایسا ہوچکا ہے کہ 30چالیس سالہ سیاسی کیریئر رکھنے والے زمان پارک میں خان کی چوکیداری کرتے رہے۔
رہی بات قاسم خان کی، قاسم خان نے لکھی ہوئی تقریر کی، کچھ عرصہ پہلے تک قافلہ انصافی پرچی پر لکھی تقریر کو نالائقی اور نااہلی کہتے تھے، آج خان کا بیٹا خود پرچی سے تقریر کر رہا ہے۔ قاسم خان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان کو ریلیف کون دے سکتا ہے، ظاہر ہے کہ حکومت یا ریاست۔ اب اسی حکومت اور ریاست مخالف تقریر کرکے قاسم اپنے والد کے لیے ریلیف حاصل کرنا چا رہے یا عمران خان کو مزید گھڈے لائن لگا رہے ؟
میرے خیال سے اقوام متحدہ والوں کے صرف تقریر سننی ہوتی ہے، وہ انہوں نے سن لی، ورنہ اگر انہوں نے جواب دینا ہوتا تو سب سے پہلے عمران خان کی پرانی ویڈیو چلاتے، جس میں عمران خان مکے لہرا کے امریکا میں تقریر کر رہے تھے کہ پاکستان جا کر جیل میں نواز شریف سے اے سی اور ٹی وی کی سہولت ختم کروں گا۔
عمران خان کے اپنے دور میں سیاسی قیدیوں کے حقوق پامال ہو رہے تھے، انہوں نے شہزاد اکبر کو سیاسی مخالفین کو ذلیل کرنے کے لیے رکھا تھا۔ نیب کا بےدریغ استعمال کیا گیا، جبکہ ریکوری صرف باتوں کی حد تک تھی۔
عمران خان اور پی ٹی آئی کے بارے میں سوشل میڈیا صارف شمشیر احمد گوندل نے کیا خوب لکھا ، ’خان کے فرزندِ ارجمند قاسم خان ان دنوں یورپی یونین کے ایوانوں میں بیٹھ کر بلوچ نیشنل موومنٹ کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف زہریلی مہم چلا رہے ہیں‘۔ مطالبہ بڑا معصومانہ ہے، ’پاکستان سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس چھین لو، تجارتی سہولتیں ختم کردو، قرضے بند کرو اور عالمی پابندیاں لگا دو۔‘
منطق ملاحظہ ہو! چونکہ ابا جی جیل میں ہیں، اس لیے پورے ملک کی معیشت کا سوئچ آف کر دیا جائے۔ برآمدات تباہ ہوں، ملک ڈیفالٹ کرے، غریب بھوک سے سڑکوں پر نکلے اور مہنگائی کا طوفان سب کچھ بہا لے جائے۔ تاکہ حکومت پریشر میں آکر رہائی کا پروانہ لکھ دے۔
یہ صرف شمشیر گوندل کا جملہ نہیں، پاکستان میں بہت سے لوگ یہی کہتے ہیں کہ عمران خان ذاتی انا کے لیے پورے ملک و قوم کو قربانی کا بکرا بنانا چاہ رہے ہیں۔ لیکن چونکہ اب زیادہ تر لوگ اس مکاری کو سمجھ گئے ہیں، اور ملک بھی محفوظ ہاتھوں میں ہے، اس لیے نہ عمران خان کی دال گل رہی ہے اور نہ ہی قاسم خان کے رونے دھونے پر اقوام متحدہ کان دھرتی ہے۔
عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا شور شرابہ اب معمول کا حصہ بن چکا ہے، پاکستان سمیت دنیا اسے ایسے ہی اگنور کر رہی ہے جیسے ن لیگ نے نواز شریف کو اگنور کیا ہوا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














