پاکستان کی متحرک سفارتکاری اور سعودی عرب کا مؤثر کردار

جمعہ 27 مارچ 2026
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں جہاں ہر گزرتا دن ایک نئے خدشے کو جنم دے رہا ہے، وہیں مسلم اُمہ کا اتحاد ایک کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور خطے میں عدم استحکام کے خدشات نے حالات کو نہایت حساس بنا دیا ہے، مگر اس تمام منظرنامے میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار امید کی ایک روشن کرن کے طور پر سامنے آیا ہے۔

سعودی عرب نے اس بحران میں جس غیر معمولی صبر، حکمت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔ ایک مضبوط اور بااثر ریاست ہونے کے باوجود، جس کے پاس فوری اور فیصلہ کن ردعمل کی مکمل صلاحیت موجود ہے، سعودی قیادت نے تحمل اور بردباری کا راستہ اختیار کیا۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کا حقیقی نگہبان ہے۔

حالیہ بیانات کی جنگ میں جب امریکی صدر Donald Trump نے یہ دعویٰ کیا کہ سعودی عرب امریکا کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی کو بڑھانا چاہتا ہے، تو اس بیان نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ تاہم سعودی عرب کی فوری اور واضح تردید نے نہ صرف اس دعوے کو مسترد کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو جنگ کو طول دے یا مسلم دنیا میں مزید تقسیم پیدا کرے۔

اسلام آباد میں سعودی سفیر کے ویڈیو پیغام نے بھی اس مؤقف کو مزید تقویت دی، جہاں ایران کے کردار پر تنقید کے باوجود انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب امن کی کوششوں کو سبوتاژ نہیں کرے گا بلکہ مسلم اُمہ کے اتحاد، یکجہتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ یہ وہ سفارتی توازن ہے جو ایک ذمہ دار اور بالغ نظر قیادت کی پہچان ہوتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے اس نازک صورتحال میں جس متحرک، سنجیدہ اور مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ بھی بے حد قابلِ ستائش ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے بلکہ ایک ایسے قابلِ اعتماد سہولت کار کے طور پر بھی اپنی حیثیت منوا رہا ہے جو متحارب قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان کی قیادت نے نہایت دانشمندی کے ساتھ تمام فریقین کے ساتھ رابطے برقرار رکھے، مکالمے کی راہیں کھولیں اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے اس مثبت کردار کو سراہا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار سفارتی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

درحقیقت، موجودہ بحران میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار ایک دوسرے کی تکمیل کرتا نظر آتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کا صبر، برداشت اور اتحادِ اُمہ پر زور، اور دوسری جانب پاکستان کی فعال اور متوازن سفارت کاری۔ یہ دونوں عوامل مل کر نہ صرف جنگ کے بادل چھانٹ سکتے ہیں بلکہ ایک نئے علاقائی توازن کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

اگر اس صورتحال کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو سعودی عرب ماضی میں بھی کئی مواقع پر تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ 2019 میں سعودی آرامکو تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے باوجود، سعودی قیادت نے فوری بڑے پیمانے پر عسکری ردعمل سے گریز کیا اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر سفارتی راستہ اختیار کیا۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ سعودی عرب طاقت کے استعمال کے بجائے استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔

اسی طرح پاکستان کا کردار بھی ماضی میں کئی اہم مواقع پر سامنے آچکا ہے۔ چاہے وہ افغانستان میں امن مذاکرات ہوں یا ایران اور سعودی عرب کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی، پاکستان نے ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ حالات میں بھی یہی روایت جاری ہے، جہاں پاکستان ایک بار پھر فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ خلیجی خطہ دنیا کی تقریباً 30 فیصد تیل کی سپلائی فراہم کرتا ہے، اور کسی بھی قسم کی جنگ عالمی معیشت کو شدید جھٹکا دے سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی مہنگائی میں اضافہ اور ترقی پذیر ممالک پر معاشی دباؤ، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو ایک بڑے تصادم کے نتیجے میں سامنے آسکتے ہیں۔

اسی لیے سعودی عرب کا صبر اور جنگ سے گریز نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی مفاد میں بھی ہے۔ اسی طرح پاکستان کی کوششیں بھی صرف مسلم اُمہ تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے اہم ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مسلم دنیا اس وقت پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ، یمن کی جنگ، شام کی صورتحال، اور افریقہ میں جاری تنازعات۔ ایسے میں اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو یہ امتِ مسلمہ کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔

لہٰذا یہ وقت جذباتی فیصلوں کا نہیں بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی اپنانے کا ہے۔ طاقت ہونے کے باوجود سعودی عرب کا تحمل اور صبر اور پاکستان کی سفارت کاری اس سمت میں ایک مثبت قدم ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر مسلم ممالک بھی ان کوششوں کا ساتھ دیں اور اتحادِ اُمہ کو مقدم رکھیں۔

اگر ایران، سعودی عرب اور دیگر فریقین مکالمے کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف ایک ممکنہ جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور متحد مسلم دنیا کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج مسلم اُمہ جس نازک دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں سعودی عرب کی حکمت اور پاکستان کی سفارت کاری ہی وہ عوامل ہیں جو اسے انتشار سے نکال کر اتحاد کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اگر یہی راستہ اپنایا گیا تو آنے والے دن نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امن اور استحکام کا پیغام لے کر آئیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟