جرمنی کے شمالی ساحل پر بحیرہ بالٹک کے قریب ایک دیوہیکل ہمپ بیک وہیل کے کم گہرے پانی میں پھنس جانے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اسے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ ماہرین نے اس کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وہیل مچھلیوں کی ہلاکت میں اچانک اضافہ، ماہرین تشویش میں مبتلا
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وہیل پیر کی صبح ٹِیمنڈورفر اسٹرینڈ کے علاقے نیینڈورف کے قریب دیکھی گئی، جس کے بعد حکام نے فوری طور پر اسے گہرے پانی کی جانب واپس لے جانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جانور کو بچانے کے لیے ہر ممکن وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم ابتدائی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
ریسکیو آپریشن میں انسٹیٹیوٹ فار ٹیریسٹریل اینڈ ایکواٹک وائلڈ لائف ریسرچ کے ماہرین بھی شامل ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق وہیل کی لمبائی 12 سے 15 میٹر اور وزن تقریباً 15 ٹن ہے۔
🇩🇪 Hope fades for humpback whale stranded on German coast
The health of a humpback whale stranded on Germany's Baltic Sea coast is deteriorating, according to conservationists, as efforts to free the animal continue. The 10-metre long whale was first spotted stuck in shallow… pic.twitter.com/1iVo0psO3t
— AFP News Agency (@AFP) March 26, 2026
ماہرین نے بھاری مشینری کی مدد سے ایک خصوصی راستہ (چینل) بنانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ وہیل کو گہرے پانی تک پہنچایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ڈریجر اور دیگر مشینری استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ پانی کی گہرائی جانچنے کے لیے مخصوص نشانات بھی لگائے گئے ہیں۔
حکام کا خیال ہے کہ یہ وہی وہیل ہو سکتی ہے جو حالیہ ہفتوں میں بحیرہ بالٹک کے مختلف علاقوں میں دیکھی گئی تھی۔ اس سے قبل اسے ایک مقام پر ماہی گیری کے جال سے نکالا گیا تھا جبکہ ایک فلاحی تنظیم نے اس کے جسم سے جال کے باقی ماندہ حصے بھی ہٹائے تھے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ وہیل کو آزاد کرانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اسے دوبارہ کھلے سمندر تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ بحیرہ بالٹک ہمپ بیک وہیلز کا قدرتی مسکن نہیں۔
ریسکیو ٹیمیں مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ وہیل کو کم سے کم دباؤ کے ساتھ محفوظ طریقے سے گہرے پانی میں منتقل کیا جا سکے۔













