امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس II مشن کے لیے منتخب چار خلا باز چاند کے تاریخی سفر سے قبل حتمی تیاریوں کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جو گزشتہ 5 دہائیوں کے بعد انسانوں کا پہلا چاند کی جانب عملہ بردار مشن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا راکٹ ’آرٹیمس II اسپیس لانچ سسٹم ‘ یکم اپریل کو چاند مشن پر روانہ ہوگا
ناسا کے خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے خلا باز جیریمی ہینسن جمعے کے روز فلوریڈا پہنچ گئے، جہاں کینیڈی اسپیس سینٹر سے ان کی روانگی متوقع ہے۔ مشن کی لانچنگ یکم اپریل سے ممکنہ طور پر شروع کی جاسکتی ہے۔
خلا باز اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے اوریون کریو کیپسول میں سوار ہو کر تقریباً 10 روزہ مشن پر روانہ ہوں گے، جس کے دوران وہ چاند کے گرد تیز رفتار چکر لگا کر زمین پر واپس آئیں گے۔
آرٹیمس II ناسا کے اربوں ڈالر مالیت کے آرٹیمس پروگرام کا پہلا عملہ بردار مشن ہوگا۔ اگرچہ اس مشن میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں، تاہم اس کے ذریعے اوریون خلائی جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم، نیویگیشن، مواصلاتی نظام اور ہیٹ شیلڈ کی کارکردگی کا عملی جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا دوسرا چاند مشن بھی ناکام، ریزیلینس لینڈر چاند پر گر کر تباہ
مشن کے عملے نے 2023 میں نامزدگی کے بعد دو سال سے زائد عرصے تک سخت تربیت حاصل کی ہے اور لانچ سے قبل انہیں معیاری قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
اس مشن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وکٹر گلوور چاند کے قریب جانے والے پہلے سیاہ فام خلا باز ہوں گے، کرسٹینا کوچ چاند کے گرد سفر کرنے والی پہلی خاتون بنیں گی جبکہ جیریمی ہینسن چاند کی جانب جانے والے پہلے غیر امریکی خلا باز ہوں گے۔
کمانڈر ریڈ وائزمین اس سے قبل 2014 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 165 دن گزار چکے ہیں، جبکہ وکٹر گلوور 2020 کے کریو-1 مشن کے دوران 168 دن خلا میں رہے۔ کرسٹینا کوچ 2019 میں 328 دن مسلسل خلا میں قیام کر کے خواتین کے طویل ترین خلائی سفر کا ریکارڈ قائم کر چکی ہیں۔ جیریمی ہینسن کے لیے یہ پہلا خلائی مشن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مریخ مشن مؤخر، ایلون مسک نے چاند پر خود کفیل شہر بسانے کی تیاری کرلی
ناسا حکام کے مطابق یہ مشن مستقبل میں انسانوں کی چاند پر واپسی اور بعد ازاں مریخ مشنز کی بنیاد ثابت ہوگا۔













