پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق اس معاہدے کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی، یعنی مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر ملیں گے۔
IMF Reaches Staff-Level Agreement on the Third Review for the 37-month Extended Arrangement under the Extended Fund Facility (EFF) and the Second Review for 28-month Arrangement Under the Resilience and Sustainability Facility (RSF) – Pakistan https://t.co/hYPsALIpbn
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) March 28, 2026
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دیدی
رقم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی، اور نئی قسط کے بعد پاکستان کو کل 4.5 ارب ڈالر موصول ہوں گے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ مستحکم ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے معیشت پر خطرات موجود ہیں۔
اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ٹیکس نظام میں اصلاحات جاری ہیں۔ غریب عوام کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے امداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مہنگائی کنٹرول کے لیے سخت پالیسی جاری رکھنے کی حمایت کی اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر شرح سود میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور معیشتی استحکام میں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی میں اضافہ کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا کہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے اور اخراجات کو کنٹرول کیا جائے۔ ایف بی آر کی اصلاحات کے آغاز سے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل انوائسنگ اور ٹیکس آڈٹ نظام مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور ٹیکس پالیسی آفس درمیانی مدت کی اصلاحاتی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر بھی کام جاری ہے۔
مالی سال 2026 کے لیے 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2027 میں اسے 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ حکومت نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے اور غربت میں کمی لانے کو ترجیح دی ہے، اور مہنگائی سے متاثرہ طبقے کے لیے ہدفی امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے بینکاری نظام کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرضے روکنے کا عزم کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہیں، حکومت نے مارکیٹ میں مداخلت کم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور بدعنوانی کے خاتمے اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان سے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کاکیوں کہا؟
مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف نے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر زور دیا ہے، جبکہ پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی تیاری جاری ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی اہداف کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی جاری ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2025 میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کی گئی تھی۔
سال 2024 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کی منظوری دی تھی۔














