پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو غیر مؤثر یا وقتی قرار دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں توازن، تحمل اور مؤثر دفاعی حکمت عملی کو برقرار رکھنے کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی دوستی اور دفاعی تعلق پر عربی نغمہ وائرل
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کو غیر فعال یا محض وقتی نوعیت کا قرار دینے والے بیانیے کو گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دفاعی معاہدے ہنگامی حالات کے لیے بنائے جاتے ہیں، نہ کہ روزمرہ بنیادوں پر استعمال کیلئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے اس معاہدے کو فعال نہ کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور ذمہ دارانہ فیصلہ ہے، جو خطے میں کشیدگی کم رکھنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ مؤثر دفاعی صلاحیت کا اصل مظاہرہ تیاری میں ہوتا ہے، نہ کہ اس کے بار بار اظہار میں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اس معاہدے کے تحت مکمل طور پر تیار اور الرٹ پوزیشن میں ہے، تاہم اسے باضابطہ طور پر فعال نہ کرنا ایک حکمت عملی ہے تاکہ خطے میں غیر ضروری تناؤ سے بچا جا سکے۔
ماہرین نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض ’سیکیورٹی کے بدلے رقم‘ پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون، مشترکہ سکیورٹی مفادات اور گہرے تاریخی و ثقافتی روابط پر مبنی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں اپنی خودمختار حکمت عملی اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے، جو اس کی دفاعی خود کفالت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی دفاعی معاہدہ: ایک خاموش مگر مضبوط شراکت داری
تجزیہ کاروں کے مطابق بعض نامعلوم ذرائع سے منسوب بیانات دراصل ایک منظم معلوماتی جنگ کا حصہ ہیں، جن کا مقصد اتحادی ممالک کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنا ہے۔ ایسے دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں ہوتی اور انہیں اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی اسٹریٹجک شراکت داریاں وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی ہیں اور ان کی اصل اہمیت فوری یا عوامی سطح پر استعمال میں نہیں بلکہ دفاعی تیاری، سیاسی پیغام اور ممکنہ خطرات کو روکنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔

یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں استحکام کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتا ہے جو کشیدگی کو کم رکھنے اور ضرورت پڑنے پر مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ شناخت، اعتماد اور طویل المدتی ہم آہنگی پر مبنی ہیں، جنہیں محض مالی یا وقتی مفادات تک محدود کرنا درست نہیں۔ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ایک فعال اور ارتقا پذیر حکمت عملی کا حصہ ہے، جو ضرورت کے وقت مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔













