بھارتی ریاست بنگلور کی پی ای ایس یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کی جانب سے مسلم طالب علم کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز اور فرقہ وارانہ ریمارکس دینے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلمان طالبعلم کو پوری کلاس سے تھپڑ رسید کروانے پر بھارتی ٹیچر کو شدید تنقید کا سامنا، ویڈیو وائرل
واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب طالب علم عرفان نے کلاس سے باہر جانے کی اجازت طلب کی۔ کلاس میں موجود طلبا کی ویڈیو اور گواہانہ بیانات کے مطابق، ڈاکٹر مرالیدھر دیشپانڈے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طالب علم کو ’دہشتگرد‘ کہہ دیا۔ ویڈیو میں پروفیسر کو نصف بازو کی چیک شرٹ پہنے ہوئے کہتے سنا جا سکتا ہے، ’شرم نہیں آتی، تمہیں‘، اور پھر طالب علم کو ’ٹیرررسٹ‘ قرار دیا۔
View this post on Instagram
پروفیسر نے طالب علم پر ایران جنگ کے ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا، ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے اور اسے ہٹانے کی بات کی، اور اسے جہنم جانے کی دھمکی بھی دی۔ یہ پورا واقعہ ایک اور طالب علم کی جانب سے ویڈیو میں ریکارڈ کیا گیا۔
Dr. Muralidhar Deshpande reportedly humiliated a Muslim student by calling him a “terrorist” in front of the class.
A police complaint was filed by NSUI president, and PES University later suspended the professor. https://t.co/DPkAqTrEAH pic.twitter.com/WBqTvdzVee
— Muslim IT Cell (@Muslim_ITCell) March 28, 2026
اس کے بعد یونیورسٹی نے پروفیسر کو معطل کر دیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وائس چانسلر نے ایک خط میں کہا کہ ’طالب علم کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ تفصیلی تحقیقات کے دوران آپ کو فوری طور پر معطل رکھا جاتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: مسلمانوں کا خوف، زیادہ داخلے ہونے پر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا میڈیکل کالج بند کردیا
طالب علم کے حق میں آواز اٹھانے والے 3 دیگر طلبا کو بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر معطل کیا گیا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی میں اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا، ضرورت پڑنے پر پروفیسر کے خلاف مزید تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
قومی طلبا یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور پروفیسر سے عوامی معافی کے ساتھ سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔














