بھارت: مسلمان طالبعلم کو ’دہشتگرد‘ کہنے پر پروفیسر معطل

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست  بنگلور کی پی ای ایس یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کی جانب سے مسلم طالب علم کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز اور فرقہ وارانہ ریمارکس دینے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلمان طالبعلم کو پوری کلاس سے تھپڑ رسید کروانے پر بھارتی ٹیچر کو شدید تنقید کا سامنا، ویڈیو وائرل

واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب طالب علم عرفان نے کلاس سے باہر جانے کی اجازت طلب کی۔ کلاس میں موجود طلبا کی ویڈیو اور گواہانہ بیانات کے مطابق، ڈاکٹر مرالیدھر دیشپانڈے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طالب علم کو ’دہشتگرد‘ کہہ دیا۔ ویڈیو میں پروفیسر کو نصف بازو کی چیک شرٹ پہنے ہوئے کہتے سنا جا سکتا ہے، ’شرم نہیں آتی، تمہیں‘، اور پھر طالب علم کو ’ٹیرررسٹ‘ قرار دیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Muslim Mirror (@muslimmirroreng)

پروفیسر نے طالب علم پر ایران جنگ کے ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا، ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے اور اسے ہٹانے کی بات کی، اور اسے جہنم جانے کی دھمکی بھی دی۔ یہ پورا واقعہ ایک اور طالب علم کی جانب سے ویڈیو میں ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے بعد یونیورسٹی نے پروفیسر کو معطل کر دیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وائس چانسلر نے ایک خط میں کہا کہ ’طالب علم کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ تفصیلی تحقیقات کے دوران آپ کو فوری طور پر معطل رکھا جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: مسلمانوں کا خوف، زیادہ داخلے ہونے پر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا میڈیکل کالج بند کردیا

طالب علم کے حق میں آواز اٹھانے والے 3 دیگر طلبا کو بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر معطل کیا گیا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی میں اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا، ضرورت پڑنے پر پروفیسر کے خلاف مزید تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

قومی طلبا یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی)  نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور پروفیسر سے عوامی معافی کے ساتھ سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp