امریکا کے نیشنل کاؤنٹرٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شام میں براہِ راست القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس (داعش) کے ساتھ کام کیا تاکہ سابق صدر بشار الاسد کا تختہ الٹ کر اسرائیل کے مفادات کو آگے بڑھایا جاسکے۔
کینٹ نے، جو ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کی مخالفت میں عہدہ چھوڑ چکے ہیں، منٹ پریس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا نے مقامی سنی گروپوں کے ساتھ مل کر شام میں بغاوت پیدا کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا
انہوں نے کہا ’یہیں سے داعش پیدا ہوئی۔ ہم نے براہِ راست القاعدہ کے ساتھ کام کیا، ہیلری کلنٹن کے ای میلز اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ فری سیرین آرمی کی حمایت کے لیے کی جانے والی کارروائیوں میں ابتدائی طور پر القاعدہ سب سے مؤثر تھی اور بعد میں داعش نے اس کا حصہ لیا۔‘
سابق عہدے دار نے کہا کہ بعد میں داعش قابو سے باہر ہو گئی، جس پر امریکا نے ’شروع کی گئی آگ بجھانے‘ کے لیے دوبارہ مداخلت کی۔ ان کے مطابق یہ کوششیں آخر کار 2024 کے آخر میں الاسد حکومت کے خاتمے اور حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے اقتدار میں آنے کا سبب بنیں، جس کے سربراہ احمد الشراع بنائے گئے، جنہیں امریکی انتظامیہ نے قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے بعد امریکا نے بھی شامی صدر احمد الشرع پر پابندیاں ختم کر دیں
کینٹ نے الشراع کی حکومت کی امریکی شناخت پر بھی تنقید کی، ان کے وسیع دہشتگردانہ پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں داعش سے تعلقات اور ایمن ظہیری کے انتخاب سے النصرہ کی قیادت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی شام میں پالیسی بار بار انتہا پسند عناصر کے ساتھ تعاون پر مبنی رہی، جبکہ اس کے نتائج کا انتظام بھی کرنا پڑا۔












