اسرائیلی پولیس نے مذہبی رہنماؤں کو تاریخی چرچ میں داخلے سے روک دیا، صدیوں میں پہلی بار پام سنڈے ماس منسوخ

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یروشلم میں پام سنڈے کے موقع پر اسرائیلی پولیس کی جانب سے کیتھولک مذہبی رہنماؤں کو چرچ آف ہولی سیپلکر میں داخل ہونے سے روکنے کے واقعے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ چرچ حکام کے مطابق صدیوں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اس تاریخی مقام پر پام سنڈے ماس ادا نہیں کی جاسکی۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو نے کس کے دباؤ میں آکر غزہ چرچ پر گولہ باری کو ’غلطی‘ قراردیا

لاطینی پیٹریارکیٹ آف یروشلم کے مطابق یروشلم کے لاطینی پیٹریارک کارڈینل پیئرباتستا پیزابالا چرچ کے سرکاری نگہبان ریورنڈ فرانسسکو ایلپو کے ہمراہ قدیم شہر میں واقع چرچ آف ہولی سیپلکر جا رہے تھے تاکہ پام سنڈے کی عبادت کی قیادت کر سکیں، تاہم اسرائیلی پولیس نے راستے میں انہیں روک کر واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

یہ چرچ عیسائیت کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بیان میں کہا کہ پولیس نے یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا اور اس میں کسی بدنیتی کا عنصر شامل نہیں تھا۔ حکام کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بعد فروری سے یروشلم کے قدیم شہر میں واقع تمام مقدس مقامات عبادت گزاروں کے لیے بند رکھے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کے خطرے کے باعث سیکیورٹی اقدامات سخت کیے گئے، حتیٰ کہ ایک حملے میں میزائل کے ٹکڑے چرچ آف ہولی سیپلکر کے قریب گرے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا غزہ میں کیتھولک چرچ پر حملہ، 2 افراد جان سے گئے، پوپ لیو کا اظہار افسوس

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ عبادت کی آزادی برقرار رکھی جائے گی تاہم موجودہ حالات کے تحت ضروری پابندیاں نافذ رہیں گی۔

پام سنڈے کا روایتی جلوس، جس میں ہر سال ہزاروں مسیحی شریک ہوتے ہیں، پہلے ہی بڑے اجتماعات پر پابندی کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔ چرچ حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی رہنما نجی طور پر عبادت کے لیے جا رہے تھے اور کوئی جلوس یا رسمی تقریب منعقد نہیں کی جا رہی تھی۔

لاطینی پیٹریارکیٹ نے اس واقعے کو خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھر کے اربوں مسیحیوں کے مذہبی جذبات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ پام سنڈے جیسے اہم دن پر پیٹریارک کو چرچ میں داخلے سے روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے واقعے پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی کی توہین قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی محاصرے اور اندھیرے میں ایسٹر کی دعائیہ تقریب کا انعقاد

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے یروشلم میں مقدس مقامات کی حیثیت کی خلاف ورزیوں کی تشویشناک کڑی قرار دیا۔

جرمنی اور یورپی پارلیمنٹ کے رہنماؤں نے بھی اس اقدام کو مسیحیوں کے لیے تکلیف دہ اور مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

عالمی ردعمل کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ حکام جلد ایسا منصوبہ تیار کریں گے جس کے تحت چرچ رہنماؤں کو آئندہ دنوں میں مقدس مقام پر عبادت کی اجازت دی جا سکے گی۔

واضح رہے کہ پام سنڈے مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یروشلم آمد کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب ان کے پیروکاروں نے ان کے استقبال میں کھجور کی شاخیں بچھائی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp