بلوچستان کے ضلع پنجگور میں اتوار کی علیٰ الصبح 2 مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 5 شہری اور 6 مبینہ حملہ آور شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہ حملے خضابدان اور رمکان کے علاقوں میں ہوئے جہاں مسلح افراد نے مبینہ طور پر حکومتی حامی قبائلی شخصیات کے گھروں کو نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں: پنجگور میں مسلح افراد کی فائرنگ، 6 افراد جاں بحق
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) جاوید احمد کے مطابق حملہ آوروں نے علیٰ الصبح فائرنگ شروع کی جو قریباً 3 گھنٹے تک جاری رہی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 5 مقامی شہری جاں بحق ہو گئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 حملہ آور مارے گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے شہریوں کی لاشیں اسپتال منتقل کرکے ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کے دیگر ممکنہ ساتھیوں کو گرفتار کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق فوری طور پر کسی تنظیم نے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ماضی میں بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیمیں ایسے حملوں میں ملوث رہی ہیں اور وہ اکثر ان افراد کو نشانہ بناتی ہیں جنہیں وہ ریاست کا حامی قرار دیتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پنجگور میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 24 فروری کو پاک ایران سرحد کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی نفری بھی تعینات کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ میں بھی دہشتگردی کی 2 کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔ معاون برائے داخلہ حکومت بلوچستان بابر یوسفزئی کے مطابق دہشتگردوں نے زراعت کالونی اور نوحصار کے علاقوں میں کارروائی کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر ایف سی اور پولیس نے فوری اور بھرپور جواب دیا جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔ فرار ہوتے ہوئے دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 5 شہری معمولی زخمی ہوئے جنہیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشتگرد ہلاک
بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بہادر سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور پورے بلوچستان میں صورتحال قابو میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی۔ معاون برائے داخلہ نے شہریوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں جبکہ پولیس، ایف سی اور دیگر ادارے شہریوں کی حفاظت اور خدمت کے لیے ہمہ وقت موجود ہیں۔














