سعودی عرب میں گلاب کی کاشت کے شعبے میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں سالانہ پیداوار میں 15 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سعودی ریف کے مطابق یہ شعبہ خاص طور پر صوبہ طائف میں چھوٹے کاشتکاروں کے لیے اہم معاشی مواقع فراہم کر رہا ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 700 ہیکٹر رقبے پر پھیلے 1300 کے قریب فارموں میں سالانہ 50 کروڑ گلاب اگائے جاتے ہیں۔
اس صنعت کو 36 پرفیوم فیکٹریوں کی معاونت حاصل ہے، جن کی مجموعی مالیت 52 ملین سعودی ریال (تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے طائف عربی گھوڑوں کے ورثے کا مرکز بن گیا
سعودی ریف پروگرام نے اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے تکنیکی رہنمائی، مالی معاونت، مارکیٹنگ سپورٹ اور طائف میں گلاب کے کاشتکاروں کی ایسوسی ایشن کے قیام جیسے اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پروگرام فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر بھی مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق طائف کا موزوں موسم 20 سے زائد اقسام کے خوشبودار پودوں کی کاشت کے لیے سازگار ہے، جنہیں کم پانی درکار ہوتا ہے اور ان کی پیداواری لاگت بھی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے سعودی قومی ترانے کے خالق، ابراہیم عبدالرحمٰن حسین خفاجی کون تھے؟
رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر گلاب کی طلب میں سالانہ 10 سے 15 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ خوشبوؤں، ادویات اور مشروبات میں اس کے بڑھتے استعمال ہیں۔
تاہم اس شعبے کو کچھ چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جن میں نئی اقسام کی تحقیق کا فقدان اور چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کے لیے فعال زرعی کوآپریٹو اداروں کی کمی شامل ہے۔














