عوامی سطح پر ہمارا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ماہرانہ رائے تو ہر موضوع پر دینی ہوتی ہے مگر سیکھنا یا سمجھنا ہم کچھ بھی نہیں چاہتے۔ یقین نہ آئے تو ابھی جاکر کسی رکشہ ڈرائیور یا ویٹر سے ایران جنگ پر رائے مانگ لیجیے، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ یہ کہے:
’بھائی میں تو رکشہ ڈرائیور/ویٹر ہوں، مجھے جنگوں کا کیا پتا؟ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ دونوں جانب سے حملے ہورہے ہیں‘۔
اس کے برعکس وہ آپ کو پورے یقین کے ساتھ ایرانی فتح کی نوید دے گا، اور دلیل اس کی یہی ہوگی کہ یہ کفر و اسلام کی جنگ ہے لہٰذا فتح حق کی ہوگی۔ حالانکہ جنگ کفر و اسلام کی کبھی بھی نہیں ہوتی۔ یہ ہمیشہ بیلنس آف پاور کی ہوتی ہے۔ ہر ریاست جانتی ہے کہ اگر طاقت کا توازن اس کے حق میں نہ ہوا تو وہ غیر محفوظ ہے۔ چنانچہ اسی کے حصول کے لیے جنگیں ہوتی ہیں۔ بیلنس آف پاور کے حصول کے دوران، دنیا کے تجارتی مراکز، تجارتی راستے، ان راستوں پر بنے چوک پوائنٹس اور اسٹریٹیجک اہمیت کے مقامات کو اپنی تحویل میں لیا جاتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی مثال اپنی ہی تاریخ سے دیکھ لیجیے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے لشکر جب جزیرۃ العرب سے نکلے تو ان لشکروں نے ہر اس مقام کا رخ کیا جہاں اہم تجارتی شہر، تجارتی راستے اور چوک پوائنٹس تھے۔ جب وہ کسی شہر کا محاصرہ کرتے تو مطالبہ یہ نہ ہوتا کہ اسلام کا کلمہ پڑھیے ورنہ مرنے کے لیے تیار ہوجائیے۔ بلکہ وہ کہتے، یا تو اسلام قبول کرکے علاقہ ہمارے حوالے کیجیے، اگر اسلام قبول نہیں کرنا تو کوئی بات نہیں، اس صورت میں شہر ہمارے حوالے کیجیے، جزیہ دیجیے، ہم جان مال کا تحفظ دیں گے، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجائیے۔
چنانچہ بہت سے علاقوں میں لوگ اپنے مذہب پر رہے، اور جزیے کی شرط کے ساتھ علاقے حوالے کردیے، لیکن یہ لشکر یورپ میں صرف اسپین تک گیا، باقی پورے براعظم کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ کیوں؟ کیونکہ نہ وہاں کوئی اہم تجارتی شہر تھا اور نہ ہی کوئی زراعت یا قدرتی وسائل۔ اور یورپ کو صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ ان کے بعد آنے والے منگولوں نے بھی نظر انداز کیا۔ یہ موٹی سی بات بس یہ سمجھانے کے لیے عرض کی ہے کہ سب سے پہلے یہ بنیادی بات سمجھ لیجیے کہ جنگیں کفر و اسلام کی نہیں وسائل پر قبضے کے لیے ہوتی ہیں۔ کسی سرزمین میں وسائل نہ ہوں تو وہاں آپ لاکھوں اولیا اللہ بٹھا دیجیے کوئی بھی غیر مسلم طاقت ان پر حملہ نہیں کرے گی۔
اب آجائیے اس بات کی جانب کہ جنگ ہوتی کیا ہے؟ یہ لڑی کس طرح جاتی ہے؟ جنگ کے تین لیول ہوتے ہیں۔ فرض کیجیے اسرائیل نے گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ایک پڑوسی عرب ملک پر حملہ کردیا۔ یہ سینکڑوں کلومیٹر کا فرنٹ ہوگا جو عسکری لحاظ سے کئی ٹکڑوں میں بٹا ہوگا۔ ہر ٹکڑے میں لیفٹننٹ، کیپٹن اور میجر رینک کے کمانڈر اپنی سپاہ کے ہمراہ برسرپیکار ہوں گے، اور اس ٹیم کا ہدف اسی ٹکڑے کا حصول ہوگا جس میں کوئی چھوٹا موٹا قصبہ یا شہر بھی ہوسکتا ہے۔ سو اس ٹکڑے میں چلنے والی لڑائی ’ٹیکٹیکل لیول آف وار‘ کہلاتی ہے۔
اب فرنٹ تو بہت وسیع ہے، اور اس میں عسکری تقسیم کے لحاظ سے قریب اور دور بہت سے ٹکڑوں پر جنگ چل رہی ہے۔ تو یہ جو پورا تھیٹر ہے یہ کہلاتا ہے ’آپریشنل لیول آف وار‘ اور اس کی کمان ہوتی ہے جی او سیز اور کور کمانڈر لیول کے افسران کے پاس جو ان تمام ٹکڑوں پر حربی تقاضوں کے مطابق پیش رفت کروا رہے ہوتے ہیں۔ یہ بڑے کمانڈر بخوبی جانتے ہیں کہ حکمت عملی کے لحاظ سے پریشر کہاں زیادہ رکھنا ہے، کہاں نسبتاً کم؟ کس علاقے کا پہلے قبضہ ہونا زیادہ ضروری ہے اور کس ایریا کی طرف آخر میں بڑھنا موزوں ہوگا۔ یوں تمام ٹکڑوں کے کمانڈر درحقیقت ان بڑے کمانڈروں کی ہدایات کے مطابق چل رہے ہوتے ہیں۔
جنگ کا سب سے بڑا، اور حتمی لیول ہوتا ہے۔ ’اسٹریٹیجک لیول آف وار‘ اس لیول پر ہوتی ہے فوج کی ہائی کمان اور ملک کی سیاسی قیادت، جس نے یہ طے کر رکھا ہوتا ہے کہ آخر اس جنگ سے حاصل کیا کرنا ہے؟۔ گویا یہ ہوتا ہے جنگ کا وہ لیول جہاں قومی فتح یا قومی شکست کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے۔ اور یہاں فتح تب ہی ممکن ہوتی ہے جب آپریشنل لیول آف وار اپنے تمام اہداف حاصل کرلے۔ صدر پیوٹن یوکرین میں ڈونلڈ ٹرمپ پر کیوں حاوی ہیں؟ کیونکہ روس کے لیے آپریشنل لیول پر جنگ طے شدہ پلان کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔
اب آجائیے خلیج کی جنگ کی جانب، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہاں صورتحال کیا ہے؟ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر میزائلوں سے حملہ کیا۔ مختلف مقامات پر ہونے والے یہ حملے ٹیکٹیکل بھی تھے اور مل کر آپریشنل بھی۔ مگر انتہائی اہم بات یہ کہ ان حملوں میں سے ایک حملہ ایسا تھا جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ’وہم‘ کے مطابق جنگ میں اسٹریٹیجک فتح بھی کھڑے کھلوتے دلا دیتا۔ اور یہ حملہ تھا آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر ہونے والا حملہ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا خیال تھا کہ ایرانی رہبر کی شہادت کی خبر پورے ایران کو افراتفری کا شکار کر دے گی اور ان حالات میں ایرانی اٹھ کر ایک لبرل انقلاب برپا کردیں گے۔
لیکن نتیجہ کیا نکلا ؟ اسکول کی بچیوں کی شہادت کی صورت پہلے ہی دن عالمی رسوائی۔ اسٹریٹیجک چھوڑئیے آپریشنل اور ٹیکٹیکل لیول کی بھی کوئی کامیابی اس لمحہ موجود تک ہاتھ نہ لگ سکی۔ اس صورتحال نے ٹرمپ کے ہوش ایسے پراں کردیے ہیں کہ وہ ایک لمحے میں فرماتے ہیں، ایران کی نیوی مکمل طور پر غرق کردی گئی ہے، اور اگلے ہی لمحے کہتے ہیں، نیٹو اپنی نیول فورس ہماری مدد کو بھیجے تاکہ آبنائے ہرمز کھلوائی جاسکے۔ یعنی جس ملک کی نیوی مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کے سمندری درے میں داخل ہونے کے لیے بھی ان حضرت کو 32 ملکوں کی نیول مدد درکار ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کامیڈی کا یہ لیول تودنیا کے کسی بھی تھیٹر میں نہیں دیکھا جاسکا کہ قبلہ ٹرمپ کے نزدیک پوری کی پوری ایرانی قیادت ماری جاچکی، ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے بھی کوئی زندہ نہیں بچا۔ لیکن ٹرمپ ہی یہ بھی فرما رہے ہیں کہ ایران سے اعلیٰ سطح پر بات چیت جاری ہے۔
ٹرمپ چھوڑییے ذرا ایک نظر اس کمانڈر پر ڈالیے جو اس وقت امریکا کا جوائنٹ چیف آف اسٹاف ہے، یعنی جنرل ڈین کین۔ یاد کیجیے انہوں نے جنگ کے تیسرے دن پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا:
’ایرانی میزائل صلاحیت بری طرح متاثر ہوگئی ہے، پچھلے دو دن کے دوران ایرانی میزائل حملوں میں واضح کمی آئی ہے‘
کسی کپتان لیول کے ملٹری افسر سے بھی پوچھ لیجیے، احمق سے احمق فوجی افسر بھی جنگ کے تیسرے دن ایسا واہیات دعویٰ کرنے کی غلطی نہیں کرے گا۔ نتیجہ کیا نکلا ؟ اگلے چار ہفتے اسرائیل پر ایرانی میزائل ایسا قہر بن کر ٹوٹے کہ غار میں چھپے نیتن یاہو کو باہر آکر اس اقوام متحدہ سے ہی امن کی بھیک مانگنی پڑی جس کا مذاق اڑانا اسرائیلیوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ جس لمحے امریکی نیوز چینلز پر ٹرمپ یہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایران کی پوری میزائل صلاحیت تباہ کردی ہے۔ اسی لمحے اسرائیلی نیوز چینلز پر نیتن یاہو کہہ رہا ہوتا ہے کہ ایرانی میزائل ہر رات ہمارا بھرکس نکال رہے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ دونوں جارح قوتیں ذہنی انتشار کا اس حد تک شکار ہیں کہ یہ کوئی مشترکہ ہم آہنگ مؤقف تک اختیار کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکیں۔
اس مخدوش صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک 48 گھنٹے کا الٹی میٹم بھی دیا، پھر کمال رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس الٹی میٹم کی مدت پہلے 5 اور پھر 10 دن کردی۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے لیکن کرنل ڈگلس مگریگر جیسے کہنہ مشق ماہرین کی رائے ہے کہ یہ ’وار اینڈنگ اوفینسیو‘ کی تیاری لگتی ہے۔ وار اینڈنگ اوفینسیو اسے کہتے ہیں کہ جب کوئی سپر طاقت جنگ ہار جائے مگر اسے باعزت انخلا کا راستہ نہ دیا جائے تو ایسی صورت میں یہ بڑی فوجی قوت جمع کرکے ایک ایسا حملہ کرتی ہے جو دکھنے میں بہت مہلک بھی لگتا ہے اور بسا اوقات کوئی ایسی جزوی کامیابی بھی دلا دیتا ہے جس کا سہارا لے کر عالمی طاقت میدان جنگ سے خود کو فاتح باور کرا کر نکل جاتی ہے۔
اطلاعات آرہی ہیں کہ امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے یو ایس میرین اور انفنٹری جمع کرنے میں مصروف ہے۔ امریکا کے فوجی اعداد و شمار کی خبر رکنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکا 70 ہزار نفوس پر مشتمل گراؤنڈ فورس ایرا کے خلاف اتارنے کی تیاری کررہا۔ جبکہ ایسے کسی آپریشن کی کامیابی کے لیے اسے کم از کم بھی 5 لاکھ فوجی درکار ہوں گے۔ لہٰذا اگر ٹرمپ نے 70 ہزار کی تعداد کے ساتھ وار اینڈنگ اوفینسیو کی غلطی کی تو آبنائے ہرمز امریکی فوجیوں کی لاشوں سے بھر جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ’وار بھونپو‘ سینیٹر لنزے گراہم نے اس اوفینسیو کے حق میں ایک بہت بڑا فریب دیتے ہوئے فاکس نیوز پر کہا ہے:
’ہم دوسری جنگ عظیم کے دوران لاوا جیما کے جزیرے پر بھی تو ایسا پوری کامیابی سے کرچکے ہیں‘
لاواجیما بحرالکاہل میں ایک چھوٹا سا جاپانی جزیرہ تھا۔ اسے قبضہ کرنے کے لیے امریکا نے 19 فروری 1945 کو امریکی میرین اتارے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جزیرے پر جاپانی فوج کی تعداد بہت ہی محدود ہے، لیکن جاپانی زیر زمین سرنگوں میں چھپے تھے جن کی درست تعداد امریکی جانتے ہی نہ تھے۔ چنانچہ جب آپریشن شروع ہوا تو 36 دن چلا، جس میں 6000 امریکی میرین مارے گئے اور 20 ہزار شدید زخمی ہوئے تھے۔ حالانکہ یہ ہرمز کے مقابلے میں کئی گنا چھوٹا اور آسان ہدف تھا۔ سو اگر امریکا وہی غلطی بڑی سطح پر زیادہ مشکل ایریا میں دہرانا چاہتا ہے تو ممکنہ طور پر ٹرمپ ہی نہیں امریکا کے لیے بھی ایک بڑی رسوائی منتظر ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













