اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورت حال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال

منگل 31 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات انتہائی دوستانہ اور گرمجوش ماحول میں ہوئی، جس میں محدود سطح کی بات چیت سے لے کر وفود کی سطح تک کئی گھنٹوں تک تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان اور چین کا فوری جنگ بندی پر زور، امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے

دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، مشرق وسطیٰ کی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر بات چیت کی۔

اس موقع پر پاکستان اور چین کی اس سال 75 ویں سالگرہ برائے سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں جانب سے موسمیاتی تعاون اور ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

’خاص طور پر اعلیٰ معیار کی ترقی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کرنے، سی پیک فیز ٹو کے تحت اقدامات بڑھانے اور تمام شعبوں میں اعلیٰ سطحی تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

مشرقی وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقین نے امن، استحکام اور مذاکرات کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اس سلسلے میں پاکستان کی مثبت اور مستقل سفارتی کوششوں کو سراہا۔

دونوں ممالک نے بین الاقوامی فورمز پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا اور باقاعدہ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ یہ ملاقات ایک بار پھر پاکستان اور چین کے درمیان دیرپا گرمجوشی، باہمی اعتماد اور پائیدار دوستی کی عکاسی کرتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ کیا ہے؟

فوری جنگ بندی

چین اور پاکستان نے فوری جنگ بندی اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کی بھرپور کوششوں کی ضرورت پر زور دیا، اور کہاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

امن مذاکرات کا آغاز

ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی خودمختاری، سرحدی سالمیت، قومی آزادی اور سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ چین اور پاکستان تمام متعلقہ فریقین کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ پرامن تصفیہ کے لیے بات چیت شروع کریں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کریں۔

غیر فوجی اہداف کی حفاظت

دونوں ممالک نے کہاکہ جنگ کے دوران شہریوں اور غیر فوجی اہداف کی حفاظت کے اصول پر عمل کیا جائے۔ توانائی، پانی کے حصول اور پرامن نیوکلیئر تنصیبات سمیت اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کی جائے۔

سمندری راستوں کی حفاظت

چین اور پاکستان نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں اور عملے کی حفاظت کی جائے، تجارتی اور شہری جہازوں کی محفوظ اور فوری گزرگاہ کو یقینی بنایا جائے، اور اس راستے کو جلد معمول کے مطابق بحال کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے منشور کی بالادستی

چین اور پاکستان نے حقیقی کثیر الجہتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط کرنے کی حمایت کی، اور خطے میں جامع امن فریم ورک قائم کرنے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر پائیدار امن کے قیام کے لیے تعاون کرنے کی اپیل کی۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی، اسحاق ڈار کا چینی ہم منصب سے رابطہ، امن کی بحالی اور استحکام پر اتفاق

اس اجلاس میں دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات، ڈپلومیسی اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp