نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے چین میں قیام میں اچانک توسیع کی وجہ سامنے آ گئی ہے، جس کی وضاحت ان کے بیٹے علی ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف کے سوال کے جواب میں کی۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے چینی وزیر خارجہ کے ساتھ اسحاق ڈار کی ملاقات کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ اس ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ، اسحاق ڈار سے کیا کہہ رہے ہوں گے؟۔
وہ ڈار صاحب کو کہہ رہے تھے کہ آپ نے رات کو واپس نہیں جانا بلکہ رات بیجنگ میں آرام کرنا ہے اور صبح پاکستان فلائے کرنا ہے۔ اس بات پر انہوں نے ڈار صاحب کو قائل کر لیا اور پھر کھانے کے بعد سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں اپنے خاص ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی بھیجی تاکہ وہ ڈار صاحب کا طبی معائنہ کر… https://t.co/TevjL6dpUG
— Ali Dar (@alimdar82) March 31, 2026
اس سوال کے جواب میں اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ چینی وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو مشورہ دیا کہ وہ رات کو واپس پاکستان روانہ ہونے کے بجائے بیجنگ میں قیام کریں اور آرام کے بعد اگلی صبح واپسی کا سفر کریں۔
علی ڈار کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو اس بات پر قائل بھی کر لیا، جس کے بعد وہ بیجنگ میں ہی رک گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کھانے کے بعد چینی حکام کی جانب سے اسحاق ڈار کے لیے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں خصوصی طور پر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی بھیجی گئی، تاکہ ان کا طبی معائنہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان اور چین کا فوری جنگ بندی پر زور، امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے
علی ڈار نے اپنی ٹوئٹ کے اختتام پر پاک چین دوستی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ یہ دوستی ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
واضح رہے کہ اسحاق ڈار حالیہ دنوں چین کے دورے پر موجود تھے، جہاں انہوں نے اہم سفارتی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران ان کے قیام میں اچانک توسیع نے سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا، تاہم اب اس کی وضاحت سامنے آ گئی ہے۔














