فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ورلڈ کپ میچز شیڈول کے مطابق امریکا میں ہی منعقد ہوں گے، اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
ترکی میں ایران اور کوسٹا ریکا قومی فٹبال ٹیم کے درمیان دوستانہ میچ کے دوران انفانٹینو نے کہا کہ میچز وہیں ہوں گے جہاں قرعہ اندازی کے مطابق طے ہیں۔ ایران ورلڈ کپ میں شریک ہوگا، اور ہمیں خوشی ہے کہ وہ ایک مضبوط ٹیم ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ سے فیفا ورلڈ کپ سمیت عالمی کھیلوں کے ایونٹس غیریقینی صورتحال کا شکار
اس سے قبل ایرانی فٹبال فیڈریشن نے عندیہ دیا تھا کہ وہ فیفا سے ایران کے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے، جس کی وجہ امریکا اسرائیل ایران جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔
دوسری جانب کلاڈیا شینباؤم نے بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو میکسیکو ایران کے گروپ میچز کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ ورلڈ کپ فیفا ورلڈ کپ 2026 امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں مشترکہ طور پر 11 جون سے شروع ہوگا۔ ایران اپنا پہلا گروپ جی میچ 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ قومی فٹبال ٹیم کے خلاف کھیلے گا۔
FIFA President Gianni Infantino says Iran’s World Cup games “will be where they should be” after holding talks with the Iranian national team in Turkey for the first time since the start of the US-Israeli war with Iran last month.
Iran’s football federation had asked FIFA to… pic.twitter.com/ymmaKBNCSl
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) March 31, 2026
ابتدائی طور پر انفانٹینو نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایرانی ٹیم کا خیرمقدم کیا جائے گا، تاہم بعد میں ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایرانی ٹیم کو اپنی حفاظت کے پیش نظر ٹورنامنٹ میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے۔
ایران نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایران کی قومی ٹیم کو ورلڈ کپ سے باہر نہیں کر سکتا۔
ترکی کے علاقے انطالیہ کے قریب ہونے والے اس میچ میں انفانٹینو کی موجودگی غیر متوقع تھی، جبکہ میڈیا کو اس حصے سے دور رکھا گیا جہاں وہ بیٹھے تھے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں سے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی مشکل میں پڑ گئی
ادھر ایران نے گزشتہ ہفتے ترکی کے شہر بیلیک میں نائجیریا قومی فٹبال ٹیم کے خلاف بھی ایک دوستانہ میچ کھیلا۔ اس موقع پر ایرانی کھلاڑیوں نے جنگ میں جاں بحق ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سیاہ پٹیاں باندھیں اور اسکول بیگز کے ساتھ تصویر بنوائی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایرانی شہر میناب میں ایک اسکول پر فضائی حملے میں کم از کم 170 افراد شہید ہوئے، جن میں طلبا اور اساتذہ شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ امریکی ٹوماہاک میزائل کی غلط نشاندہی کا نتیجہ تھا۔












