جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابات سے قبل مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو 31 مئی کی ڈیڈلائن دے دی۔
جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 30 اور 31 مارچ کو ڈڈیال میں ہونے والے اہم اجلاس کے بعد جاری اعلامیے نے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے بعد آئندہ عام انتخابات کے انعقاد پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’کشمیر لبریشن فرنٹ کی پشت پناہی اور پاکستان مخالف ایجنڈا‘ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر تنقید
اعلامیے میں کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ آزاد جموں کشمیر میں شفاف، منصفانہ، غیر جانبدار اور قابلِ قبول انتخابات کے انعقاد کی حامی ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے فوری آئینی اور انتخابی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاکہ عوام کو اپنے حقِ رائے دہی کے درست استعمال کا موقع مل سکے۔
کور کمیٹی، تینوں ڈویژنز کی ذیلی ایکشن کمیٹیوں اور عوامی آرا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کی خلاف ورزی اور مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر قائم 12 متنازع اور غیر آئینی نشستوں کا مسئلہ حل کیے بغیر انتخابات کا انعقاد عوام کے ساتھ دھوکہ تصور ہوگا۔
کمیٹی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ وہ جمہوری عمل کے خلاف نہیں، تاہم ان 12 نشستوں کے ذریعے عوامی مینڈیٹ پر اثر انداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ انتخابات سے قبل ان نشستوں کو ختم کیا جائے، حکمران اشرافیہ کو حاصل مراعات کا خاتمہ کیا جائے اور طے شدہ معاہدوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو باضابطہ اسٹیک ہولڈر کا درجہ دیا جائے اور ایک آزاد و غیر جانبدار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے، جبکہ آبادی کے تناسب کے مطابق نئی حلقہ بندیاں اور دیگر انتخابی اصلاحات بھی نافذ کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی نے باقاعدہ چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کر دیا ہے۔
کمیٹی نے اعلان کیا کہ تحفظات کے باوجود مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے، تاہم مطالبات کی منظوری کے لیے 31 مئی 2026 تک کی حتمی مہلت مقرر کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق اگر مقررہ مدت تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 9 جون 2026 کو مظفرآباد اسمبلی کی جانب ایک تاریخ ساز لانگ مارچ شروع کیا جائے گا، جو مظفرآباد پہنچ کر اسمبلی کے سامنے غیر معینہ مدت کے دھرنے میں تبدیل ہوگا، جبکہ پورے آزاد کشمیر میں لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال بھی کی جائے گی۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ تحریک کے لیے کم از کم ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کریں اور وارڈ سطح پر تنظیم سازی کو فوری فعال بنائیں۔ اس کے ساتھ حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے حوالے سے بھرپور عوامی رابطہ مہم، کانفرنسز اور سیمینارز کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
اوورسیز کشمیریوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس تحریک میں فعال کردار ادا کریں، جبکہ ملکی و بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حکومتی وعدہ خلافیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔
اعلامیے میں گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سمیت گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
کور کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کے خلاف این سی سی آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے 29 ستمبر کے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات 2026: شیڈول مئی میں جاری ہوگا، شفاف انتخابات کے لیے اہم فیصلے
دوسری جانب ایک حریت رہنما کے متنازع بیانات اور ایک کشمیری صحافی کی طویل حراست کو بھی انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا گیا۔
تعلیم کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام پر عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم میرپور بورڈ کے وسائل کی منتقلی کی مبینہ کوشش کو علاقائی تقسیم کی سازش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
اسی طرح محکمہ برقیات کو ملنے والی 10 ارب روپے کی گرانٹ کے شفاف اور میرٹ پر استعمال کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر اس فنڈ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔










