جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو واضح ڈیڈلائن دیتے ہوئے 9 جون 2026 کو احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیٹی کی جانب سے سابقہ وعدوں پر عملدرآمد کا تقاضا دہراتے ہوئے متعدد نئے نکات بھی پیش کیے گئے ہیں۔

کوٹلی سرساوہ میں منعقدہ مشاورتی اجلاس کے بعد رات گئے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا نے لاہور کی ایک یونیورسٹی میں طالبہ فریحہ ابراہیم کی خودکشی کے واقعے پر افسوس اور مذمت کا اظہار کیا۔

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کی پھر احتجاج کی دھمکی، وزیراعظم میدان میں

کمیٹی نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم سمیت دیگر سرکاری اداروں میں تقرریوں کے لیے این ٹی ایس اور پی ایس سی جیسے اداروں کو فعال بنایا جائے، ایڈہاک بنیادوں پر بھرتیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے اور ترقیوں کے لیے مختص کوٹے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے حالیہ اسمبلی اجلاس میں پیش کیے گئے احتساب بیورو ایکٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مجوزہ ترامیم بدعنوانی کے انسداد کے بجائے اس میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی طرح صحافی سہراب برکت کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس میں ای سی ایل میں شامل افراد کے نام منظرِعام پر نہ لانے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ متعلقہ فہرست فوری طور پر جاری کی جائے تاکہ ابہام کا خاتمہ ہو۔

اشیائے ضروریہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماؤں نے ناقص آٹے کی فراہمی پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ نہ صرف آٹے کا معیار بہتر بنایا جائے بلکہ اس کی مقدار میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

صحت کارڈ کے معاملے پر بھی کمیٹی نے خدشات کا اظہار کیا اور حکومت کے ساتھ ساتھ سٹیٹ لائف انشورنس کمپنی سے مطالبہ کیا کہ پالیسی سے متعلق تحفظات فوری دور کیے جائیں اور شہریوں کو 24 گھنٹے مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ کمیٹی نے ہیلتھ ورکرز کے جاری احتجاج کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے احتجاج کو روکنے کا اختیار، عوامی ایکشن کمیٹی ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی پیشکش

کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ 38 نکات پر عملدرآمد کے لیے 9 جون کو احتجاج کیا جائے گا، جبکہ اس احتجاج کی تفصیلات عید کے بعد جاری کی جائیں گی۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبات پر فوری پیش رفت کرے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کیا تھا جو پرتشدد ہونے کے باعث سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے وفاقی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے حوالے سے وفاقی وزرا اور آزاد کشمیر حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے، تاہم ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار