ایک نئی تحقیق کے مطابق نکوٹین پر مبنی ای سگریٹس سگریٹ نوشی ترک کرنے میں روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں اور صحت کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا پاکستان میں ویپنگ، ای سگریٹ پر پابندی لگنے والی ہے؟
طبی جرنل (Addiction Journal) میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ ای سگریٹس نکوٹین پیچز یا چیونگ گم جیسے متبادل طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی میٹا اینالیسس کے مطابق واضح اور مستقل شواہد موجود ہیں کہ ای سگریٹس سگریٹ چھوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
2024 کے ایک جائزے کے مطابق، ہر 100 افراد میں سے اضافی 2 سے 5 افراد ای سگریٹس کے ذریعے سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، جو دیگر متبادل طریقوں سے بہتر نتیجہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ای سگریٹس مکمل طور پر بے ضرر نہیں، لیکن روایتی تمباکو نوشی کے مقابلے میں ان کے استعمال سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کی مقدار میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اس حوالے سے آکسفورڈ کے محققین کا مؤقف ہے کہ اس تحقیق سے یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ ای سگریٹس کی افادیت سے متعلق شواہد غیر واضح ہیں۔
تاہم، فروری 2026 کی ایک تحقیق کے مطابق ای سگریٹ استعمال کرنے والے افراد اب بھی مضر اور سرطان پیدا کرنے والے کیمیکلز کے اثر میں آتے ہیں۔ چونکہ یہ مصنوعات نسبتاً نئی ہیں اور مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں، اس لیے ان کے طویل مدتی اثرات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکے۔
مزید پڑھیں: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا
عالمی سطح پر بھی اس معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ ای سگریٹس نوجوانوں میں نکوٹین کی لت بڑھا رہی ہیں اور تمباکو کنٹرول کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اندازوں کے مطابق 2025 تک دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد افراد ویپنگ کر رہے ہیں، جن میں قریباً ڈیڑھ کروڑ بچے (عمر 13 سے 15 سال) بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سائنسی ابہام اور جاری بحث کے باعث عالمی پالیسی سازی اور طبی فیصلے متاثر ہو رہے ہیں۔














