سپریم کورٹ: صحافی مطیع اللہ جان کیس میں ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف دہشتگردی دفعات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔

مزید پڑھیں:انسداد دہشت گردی عدالت: صحافی مطیع اللہ جان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں چالان جمع ہو چکا ہے اور کل فرد جرم عائد ہونی ہے، لہٰذا عدالت ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کا حکم دے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ یہ مقدمہ ایک سیاسی جماعت کے احتجاج کی رپورٹنگ روکنے کے لیے بنایا گیا۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ فرد جرم عائد ہو بھی جائے تو اسے واپس لیا جا سکتا ہے اور چارج فریم ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ بعض مقدمات، جیسے منشیات کیسز میں تو ضمانت بھی نہیں ہوتی۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق مطیع اللہ جان سے منشیات برآمد نہیں ہوئیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں کیس دوبارہ مقرر کیوں نہیں ہوا، جس پر وکیل نے بتایا کہ 23 فروری کے بعد کیس کو دوبارہ نہیں لگایا گیا۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ایسے مقدمات کا فیصلہ عموماً ایک ہفتے میں ہو جاتا ہے، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے دریافت کیا کہ کیا درخواست گزار کو بینچ پر کوئی اعتراض ہے، جس پر مطیع اللہ جان کی جانب سے بینچ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد پریس کلب میں پولیس داخل اور توڑ پھوڑ، ’اب تو صحافی پریس کلب میں بھی محفوظ نہیں’

عدالت نے پراسیکوشن کو کل تک کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کے خلاف نئے چالان سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی، جبکہ مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

یہ کیس جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp