نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار چین کا دورہ مکمل کرکے اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال کیا گیا۔
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا چین سے واپسی پر ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 has arrived back in Islamabad along with his delegation. pic.twitter.com/4OyFCuQIeA
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 1, 2026
وزیر ریلوے نے کامیاب سفارتکاری پر نائب وزیراعظم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے چین کے کامیاب دورے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے سہ ملکی وزرائے خارجہ کانفرنس کی کامیابی پر بھی نائب وزیر اعظم کو مبارکباد دی۔
محمد حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ سہ ملکی وزرائے خارجہ کانفرنس کی کامیابی پاکستان کے مثبت عالمی کردار کا مظہر ہے، جبکہ پاکستان کی مؤثر سفارتکاری عالمی سطح پر مثبت پیغام دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار گزشتہ روز چین پہنچے تھے، جہاں ان کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا گیا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ ای اور پاکستان کے وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے بیجنگ میں ملاقات کی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ 5 نکات پیش کردیے۔
فوری جنگ بندی
چین اور پاکستان نے فوری جنگ بندی اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کی بھرپور کوششوں کی ضرورت پر زور دیا، اور کہاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی اجازت ہونی چاہیے۔
امن مذاکرات کا آغاز
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی خودمختاری، سرحدی سالمیت، قومی آزادی اور سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ چین اور پاکستان تمام متعلقہ فریقین کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ پرامن تصفیہ کے لیے بات چیت شروع کریں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کریں۔
غیر فوجی اہداف کی حفاظت
دونوں ممالک نے کہاکہ جنگ کے دوران شہریوں اور غیر فوجی اہداف کی حفاظت کے اصول پر عمل کیا جائے۔ توانائی، پانی کے حصول اور پرامن نیوکلیئر تنصیبات سمیت اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کی جائے۔
سمندری راستوں کی حفاظت
چین اور پاکستان نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں اور عملے کی حفاظت کی جائے، تجارتی اور شہری جہازوں کی محفوظ اور فوری گزرگاہ کو یقینی بنایا جائے، اور اس راستے کو جلد معمول کے مطابق بحال کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی بالادستی
چین اور پاکستان نے حقیقی کثیر الجہتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط کرنے کی حمایت کی، اور خطے میں جامع امن فریم ورک قائم کرنے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر پائیدار امن کے قیام کے لیے تعاون کرنے کی اپیل کی۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان اور چین کا فوری جنگ بندی پر زور، امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے
اس اجلاس میں دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات، ڈپلومیسی اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔














