پبلک سروس کمیشن کے اختیارات واپس لینے کی تیاری، کیا گورنر خیبر پختونخوا مکمل بے اختیار ہوگئے؟

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں اور صوبائی حکومت نے گورنر فیصل کریم کنڈی سے پبلک سروس کمیشن کے اختیارات واپس لینے کے لیے قانون سازی شروع کر دی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 2018 میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت گورنر کے اختیارات ختم کرنے کے لیے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کو افغانستان کا سفیر یا مستقل مندوب ہونا چاہیے، گورنر خیبرپختونخوا کی وزیراعلیٰ پر تنقید

اس ضمن میں پیش رفت کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے پبلک سروس کمیشن ترمیمی ایکٹ 2026 اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے، جس میں اختیارات گورنر سے لے کر صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کو دینے کی تجاویز شامل ہیں۔

اسمبلی میں پیش کردہ مجوزہ بل کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے ارکان اور ملازمین کی تعداد اور مراعات کا تعین اب گورنر کے بجائے صوبائی حکومت کرے گی، چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی تقرری کا اختیار پہلے گورنر کے پاس تھا، جو کمیٹی کی سفارش پر تقرری کرتے تھے۔

مجوزہ ترمیم کے ذریعے صوبائی حکومت یہ اختیار واپس لے رہی ہے، اب چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی تقرری وزیراعلیٰ کے مشورے سے گورنر کریں گے، یعنی وزیراعلیٰ کی دی گئی نامزدگی کو گورنر منظور کریں گے۔

ترامیم کے ذریعے کمیشن کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ پہلے گورنر کو پیش کی جاتی تھی، جبکہ نئی ترمیم کے بعد یہ رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کی جائے گی، اسی طرح پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ اب گورنر کے بجائے صوبائی حکومت اسمبلی میں پیش کرے گی۔

مزید پڑھیں: امن و امان کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو وفاق کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، احمد کریم کنڈی

ترامیم کی منظوری کے بعد کمیشن کے قواعد و ضوابط بنانے کے اختیارات بھی براہِ راست حکومت کے پاس ہوں گے اور گورنر کا عمل دخل ختم ہو جائے گا۔

یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت گورنر سے اختیارات واپس لے رہی ہے، 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی، تب سے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

مزید پڑھیں: گورنر راج حقیقت بن سکتا ہے، فیصل واوڈا نے سہیل آفریدی کو خبردار کردیا

پی پی پی کے رہنما فیصل کریم کنڈی کے گورنر بننے کے بعد سے صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے ہیں، اور صوبائی حکومت نے گورنر کو مکمل بے اختیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے صوبائی حکومت نے ترمیم کے ذریعے گورنر سے صوبے کی سرکاری جامعات کے چانسلر کا عہدہ بھی واپس لے لیا تھا اور اب وزیراعلیٰ صوبے کے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے چانسلر ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے اختلافات یہیں نہیں رکے، بلکہ صوبے میں قائم تاریخی ایڈورڈ کالج کے پرنسپل کی تعیناتی کے معاملے پر بھی دونوں آمنے سامنے آ گئے۔

صوبائی حکومت نے گورنر کو کالج کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز کے عہدے سے ہٹا کر یہ اختیار وزیراعلیٰ کو سونپ دیا، جسے گورنر نے ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

کیا گورنر مکمل بے اختیار ہو گئے؟

گورنر خیبر پختونخوا کے پاس اب کوئی نمایاں انتظامی اختیارات نہیں رہے اور وہ عملاً صرف وفاق کے نمائندے کے طور پر رہ گئے ہیں، سینیئر صحافی ظفر اقبال کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا اس وقت بے اختیار ہو گئے تھے جب فاٹا کا قبائلی علاقوں میں انضمام ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ گورنر کے اصل اختیارات فاٹا کے انضمام سے قبل نمایاں تھے، کیونکہ قبائلی علاقے گورنر کے دائرہ اختیار میں آتے تھے۔ ان کے مطابق گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور اس کے پاس براہِ راست انتظامی اختیارات نہیں ہوتے، تاہم چانسلرشپ کے باعث وہ یونیورسٹیوں کے کانووکیشن میں شرکت کرتے تھے اور انہیں میڈیا کوریج ملتی تھی، جو اب ختم ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے دیا جائے، کوئی قیامت نہیں آئے گی، گورنر پنجاب

’گورنر کو بے اختیار کرنے کے پیچھے اصل وجہ سیاسی اختلافات ہیں، مسئلہ گورنر کے اختیارات کا نہیں بلکہ سیاسی اختلافات کا ہے۔‘

ظفر اقبال کے مطابق اب گورنر زیادہ تر سیاسی کارکنوں سے ملاقات کرتے ہیں، اور اگر کبھی وزیراعظم یا صدر پاکستان پشاور آئیں تو ان کا استقبال کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی خاص اختیارات نہیں رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp