پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محمود اشرفی نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کے قانون کی منظوری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، اور زور دیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔
اپنے بیان میں حافظ طاہر اشرفی نے کہاکہ اسرائیل کا یہ اقدام انتہائی افسوسناک اور فلسطینی عوام کے خلاف نئے قوانین اسرائیل کی بربریت کی واضح مثال ہیں۔
اسرائیل نے فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور کر لیا ہے، یہ اقدام انتہائی افسوسناک ہے، فلسطینیوں کے خلاف نئے قوانین اسرائیل کی بربریت کو ظاہر کرتے ہیں، گزشتہ 32 دن سے مسجد الاقصیٰ بند ہے، عالم اسلام کا اتحاد ہی موجودہ بحرانوں کا حل ہے، عالمی برادری اسرائیل کے ظالمانہ قوانین… pic.twitter.com/ujIE7Ghh0r
— WE News (@WENewsPk) April 1, 2026
انہوں نے مزید کہاکہ گزشتہ 32 دن سے مسجد الاقصیٰ بند ہے اور فلسطینی شہری گرفتار کیے جا رہے ہیں، اس لیے عالمی برادری کو اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف مؤثر آواز اٹھانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کو بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہاکہ فلسطینیوں پر اسرائیلی قوانین کا نفاذ غیر قانونی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کو امن کے قیام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جس کا دارالحکومت القدس ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کا نیا قانون، عالمی سطح پر شدید ردعمل
یاد رہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے حال ہی میں ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت اسرائیلی شہریوں کے قتل میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔














