امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازعہ پالیسیوں میں سے ایک پر غور کرتے ہوئے، امریکی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اس تجویز کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جس کا مقصد امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر فرد کو دیے جانے والے پیدائشی شہریت کے آئینی حق کو محدود کرنا ہے۔
یہ ایگزیکٹو آرڈر ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے پہلے دن ان کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق پیدائشی شہریت صرف ان بچوں کو دی جائے گی جن کے کم از کم ایک والدین امریکی شہری یا مستقل رہائشی ہوں۔
اس کے نتیجے میں، ایسے بچوں کو پیدائش کے وقت شہریت نہیں ملے گی جن کے والدین عارضی ویزے پر امریکا میں موجود ہوں یا غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل
صدر ٹرمپ خود سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شریک ہوئے، جو کسی حاضر صدر کی جانب سے ایک غیر معمولی قدم تھا، تاہم وہ سماعت مکمل ہونے سے پہلے ہی روانہ ہوگئے۔
سماعت کے دوران کئی قدامت پسند ججوں نے حکومت کے وکیل جان ساؤر سے سخت سوالات کیے اور حکومتی مؤقف پر شکوک کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر آئین کی 14ویں ترمیم کی اس شق کی روایتی تشریح کو بدل دیتا ہے جسے شہریت کی شق کہا جاتا ہے، جس کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والے یا وہاں شہریت حاصل کرنے والے تمام افراد، جو اس کے دائرہ اختیار میں ہوں، امریکی شہری ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی امیگریشن پالیسیوں کا المیہ؛ بیمار بیٹے کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا
یہ شق خانہ جنگی کے بعد منظور کی گئی تھی تاکہ سابق غلاموں کو برابر کے حقوق فراہم کیے جا سکیں، اور طویل عرصے سے اسے تقریباً ہر اس شخص پر لاگو سمجھا جاتا رہا ہے جو امریکا میں پیدا ہو، چاہے اس کے والدین کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔ اس میں چند استثنات شامل تھے، جیسے سفارت کاروں یا غیر ملکی حملہ آوروں کے بچے۔
ٹرمپ کے اس حکم نامے کو ملک بھر کی عدالتوں نے فوری طور پر روک دیا تھا اور یہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا، بیشتر قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں ٹرمپ کو کامیابی حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اگر یہ منصوبہ نافذ ہوتا ہے تو ہر سال امریکا میں پیدا ہونے والے ہزاروں بچوں کی شہریت متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا منسوخ کر دیا، ہزاروں خاندان پھنس گئے
حکومت کی قانونی دلیل 14ویں ترمیم میں شامل جملے ’اس کے دائرہ اختیار میں‘ کی تشریح پر مبنی ہے، جس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
حکومتی وکیل جان ساؤر نے مؤقف اپنایا کہ یہ شق بنیادی طور پر آزاد غلاموں کی اولاد کے لیے تھی اور شہریت کے لیے ضروری ہے کہ فرد مکمل طور پر امریکی سیاسی دائرہ اختیار میں ہو اور کسی دوسرے ملک سے وابستگی نہ رکھتا ہو۔
انہوں نے 1884 کے سپریم کورٹ کے مقدمے ایلک بمقابلہ ولکنز کا حوالہ بھی دیا، جس میں اس وقت مقامی امریکیوں کو پیدائشی شہریت نہ دینے کی وضاحت کی گئی تھی، تاہم ماہرین نے اس دلیل کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ مخصوص حالات تک محدود تھا۔
مزید پڑھیں: افغان دہشتگرد کی فائرنگ، 2 نیشنل گارڈ اہلکاروں کی حالت تشویشناک
دوسری جانب، اس صدارتی حکم نامے کے خلاف قانونی جنگ کی قیادت کرنیوالی امریکن سول لبرٹیز یونین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 14ویں ترمیم کا متن، تاریخ اور اس کی روایتی تشریح واضح ہے۔
تنظیم کے وکلا نے 1898 کے اہم مقدمےیونائیٹڈ اسٹیٹس بمقابلہ وونگ کم آرک کا بھی حوالہ دیا، جس میں فیصلہ دیا گیا تھا کہ سان فرانسسکو میں چینی والدین کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ امریکی شہری ہے۔
سپریم کورٹ اس بات کا بھی جائزہ لے سکتی ہے کہ آیا یہ ایگزیکٹو آرڈر وفاقی امیگریشن قانون سے متصادم ہے یا نہیں، جس میں بھی اسی طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان
عدالت چاہے تو 14ویں ترمیم پر فیصلہ دیے بغیر بھی اس حکم نامے کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے اور معاملہ کانگریس پر چھوڑ سکتی ہے۔
سپریم کورٹ میں اس وقت 6-3 کی قدامت پسند اکثریت ہے، جس نے گزشتہ سال متعدد فیصلے ٹرمپ کے حق میں دیے۔
تاہم فروری میں عدالت نے ٹیرف کے وسیع استعمال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں ایک بڑا دھچکا بھی دیا تھا۔
اس عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں کو آئین سے بے وفائی کا مرتکب قرار دیا تھا۔














