کوئٹہ: پولیس حراست میں نوجوان کی مبینہ خودکشی، اہلِ خانہ کا قتل کا الزام

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئٹہ میں پولیس حراست میں ایک نوجوان کی مبینہ خودکشی کے واقعے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا، جبکہ اہلِ خانہ نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے بی ایم سی اسپتال میں نوجوان محمد اسرار کی لاش لائے جانے کے بعد لواحقین نے احتجاج شروع کر دیا۔

اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ محمد اسرار کو 6 روز قبل لنک بادینی روڈ سے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم اس دوران انہیں کسی بھی تھانے سے اس کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں پولیس پر حملہ، فائرنگ سے 2 اہلکار شہید

متوفی کے والد محمد انور کے مطابق انہوں نے قریبی تمام تھانوں میں بیٹے کی تلاش کی مگر ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ ان کا بیٹا زیرِ حراست نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آج ایس پی کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے نے خودکشی کر لی ہے۔

والد نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں گیس پائپ لائن دھماکے سے متاثر، متعدد علاقوں کو گیس فراہمی معطل

انہوں نے کہا کہ محمد اسرار کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا، اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہوتا تو اسے عدالت میں پیش کیا جاتا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 6 روز کے دوران نوجوان پر تشدد کیا گیا، جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔

انہوں نے مزید شکایت کی کہ فوری طور پر پوسٹ مارٹم بھی نہیں کیا جا رہا اور انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ عمل 24 گھنٹوں کے بعد ہوگا۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین سروس پھر معطل کرنے کا فیصلہ، وجہ کیا ہے؟

متوفی کے والد نے واضح کیا کہ جب تک انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا وہ لاش وصول نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف انصاف چاہیے اور اس کے لیے واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp