بنگلہ دیش میں بی این پی کے رہنما ایم الیاس علی کی گمشدگی سے متعلق اہم نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق انہیں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں بھارت سے متعلق متنازع ڈیم منصوبے اور علاقائی ٹرانزٹ معاہدوں کی مخالفت پر نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش بحریہ کا بڑا آپریشن، 4 روز سے بھٹکتے ماہی گیر ریسکیو کرلیے
یہ تفصیلات سابق ڈی جی ایف آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیخ مامون خالد کی گرفتاری کے بعد سامنے آئیں، جن سے تفتیش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے الیاس علی کی گمشدگی سے متعلق اہم معلومات فراہم کی ہیں، تاہم انہوں نے براہِ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
ڈھاکا سے شائع ہونے والے اخبار کے مطابق تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ الیاس علی نے ٹپی مکھ ڈیم منصوبے اور پڑوسی ملک کے ساتھ ٹرانزٹ و ٹرانس شپمنٹ معاہدوں کی سخت مخالفت کی تھی، جس کے باعث وہ حکومتی نگرانی میں آ گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق ایک منظم کارروائی ریپڈ ایکشن بٹالین (راب-1) کے اہلکاروں نے بعض انٹیلی جنس حکام کی معاونت سے کی، جو مبینہ طور پر اعلیٰ سطح ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔
تحقیقات کے مطابق 17 اپریل 2012 کی رات الیاس علی اور ان کے ڈرائیور کو ڈھاکا کے علاقے بنانی سے اٹھایا گیا اور ایک راب مرکز منتقل کیا گیا، جہاں انہیں کئی روز تک حراست میں رکھ کر تفتیش کی گئی۔ بعد ازاں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں قتل کرکے لاش دریائے دھلیشوری میں پھینک دی گئی۔
الیاس علی کی گمشدگی بنگلہ دیش کے نمایاں حل طلب مقدمات میں شامل رہی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ان کے اہلِ خانہ، حامیوں اور جماعتی رہنماؤں نے ان کے انجام سے متعلق وضاحت کا مطالبہ کیا، مگر سابق حکومت کے دوران کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔
اب نئی تحقیقات کے آغاز کے ساتھ کئی سابق انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جبکہ کچھ متعلقہ افراد کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ روپوش ہو چکے ہیں یا ملک چھوڑ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں خسرہ کے بڑھتے کیسز، ملک گیر ویکسینیشن کا آغاز اتوار سے ہوگا
الیاس علی کی اہلیہ بھی مسلسل عوامی سطح پر اس معاملے کو اٹھاتی رہی ہیں۔ تازہ انکشافات سے بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں اور سیاسی دباؤ سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتی ہے۔














