وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت موجودہ عالمی صورتحال میں غیر ضروری ہوگیا ہے، اس لیے بھارت پاکستان کے خلاف ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے، اس بار بھارت نے کچھ کیا تو گھر میں گھس کر ماریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارتی قیادت کا ہدف سندھ طاس معاہدہ تھا، طلال چوہدری
نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیردفاع راجناتھ سنگھ کے پاکستان مخالف بیان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ راجناتھ اور ان کا ملک موجودہ عالمی منظرنامے میں غیر متعلقہ ہوچکے ہیں، بھارت کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ اتنی بڑی جنگ میں پاکستان کو ثالثی کا کردار ملے گا، اس لیے بھارت متعلقہ ہونے کی کوشش میں پاکستان کے خلاف پھر کوئی مخاصمت یا فالس فلیگ آپریشن کرنا چاہتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر بھارت نے کسی فالس فلیگ آپریشن کی کوشش کی تو پہلے سے زیادہ ذلت اٹھائے گا، پہلے تو 200کلو میٹر کے اندر جنگ ہوئی اب ہم بھارت کو گھر میں گھس کر ماریں گے۔
وزیردفاع نے کہا کہ گلف کشیدگی کے دوران پاکستان کا بطور ثالث کردار سراہا جارہاہے، آج سے کچھ سال پہلے بلکہ ڈیڑھ سال پہلے یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کے اوپر اتنی مہربانی کرے گا کہ ہم بین الاقوامی تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار
انہوں نے کہا پاکستان کے ایران کے ساتھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل بارڈر ہے، صدیوں پرانے تعلقات ہیں، گلف کے دوسرے ممالک بھی ہمارے بھائی ہیں، پاکستان کی ایسی کوشش ہے کہ جس کا سارے عالم اسلام کو فائدہ پہنچے گا کہ ہماری صفوں میں جو دراڑیں آئی ہوئی ہیں، ہم ان کو پوری کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ترکی، مصر اور دوسرے ممالک جن میں چین بھی شامل ہے، خطے میں امن کے لیے کوشش کررہا ہے، اللہ کرے خطے میں امن آئے۔
کیا ٹی ٹی پی کے سربراہ افغانستان کے گرین زون میں چھپ بیٹھے ہوئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ جب سے پاکستان نے افغانستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی شروع کی ہے، ٹی ٹی پی سربراہان اور دوسرے خوارجی چھپے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کے ساتھ ہماری جنگ جاری رہے، ہم ماضی میں بھی ٹی ٹی پی کو وہاں سے نکالنے یا اس کے خلاف کارروائی کے لیے افغانستان سے بات کی افغانستان کا ہمارے ساتھ رویہ اچھا نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے مابین ثالثی: پاکستان کے نمایاں کردار پر بھارت میں ہنگامہ، کانگریس نے مودی حکومت کو دھو ڈالا
خواجہ آصف نے کہا کہ قطر اور ترکی نے افغان حکام سے بات کی، ہم نے براہ راست بھی بات کی تھی تو انہوں نے ہم سے 10 ارب مانگا تھا، ہم نے گارنٹی مانگی تھی کہ ہم 10ارب بھی دیدیں اور یہ ادھر ہیں رہیں تو پاکستان کا کیا فائدہ ہوگا۔














