حکومت نے عالمی حالات کے پیش نظر ایندھن کی قیمتوں سے متعلق اپنی پالیسی میں حالیہ ردوبدل کو ایک عارضی اور ناگزیر قدم قرار دیا ہے، جس کا مقصد معیشت کو غیر یقینی عالمی توانائی منڈی کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ابتدا میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جاری عالمی تنازع جلد کم ہو جائے گا، جس کے پیش نظر سفارتی اور معاشی سطح پر مسلسل کوششیں بھی کی گئیں تاکہ ممکنہ اثرات کو کم کیا جا سکے۔
تاہم حالیہ پیش رفت، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جس کے اثرات براہِ راست توانائی کے شعبے پر پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40پیسے، ڈیزل کی 520 روپے مقرر
عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 50 سے 60 فیصد تک اضافے نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔
اس کے باوجود حکومت نے عوام کو فوری اثرات سے بچانے کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کی سبسڈی برداشت کی۔
حکام کے مطابق حالیہ ایڈجسٹمنٹ کے باوجود مختلف شعبوں کے لیے ہدفی ریلیف برقرار رکھا گیا ہے، موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو سہولت دی گئی ہے تاکہ کم آمدنی والے افراد پر بوجھ کم ہو۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی: وفاق اور صوبوں کا ٹارگٹڈ سبسڈی کے لیے فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق
کسانوں کو زرعی سرگرمیوں کے تسلسل اور غذائی تحفظ کے لیے سہارا فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی تحفظ دیا گیا ہے تاکہ عوامی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو۔
ادھر خاص طور پر لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ڈیزل کے استعمال میں 13 فیصد اضافے نے بھی مالی دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں یہ ردوبدل مستقل نہیں بلکہ ایک عارضی استحکامی اقدام ہے، اور جیسے ہی عالمی منڈی میں بہتری آئے گی، قیمتوں کا ازسرِ نو جائزہ لے کر انہیں کم کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل اور وزیرخارجہ کی کوششوں سے آبنائے ہرمز سے پاکستان کے جہاز گزر گئے، وزیراعظم شہباز شریف
اس دوران شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ورک فرام ہوم جیسے طریقے اپنائیں اور ایندھن کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ اجتماعی طور پر اس صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق موجودہ حکمت عملی متوازن ہے، جس کے تحت زیادہ سے زیادہ بوجھ خود برداشت کیا جا رہا ہے، کمزور طبقات کو تحفظ دیا جا رہا ہے، اور غیر یقینی عالمی توانائی منظرنامے میں معاشی تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔














