غزہ میں جنگ نے بچوں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ایک حالیہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ میں ایک کیمپ میں پانچ بچے ایک گڑیا کا جنازہ نکال رہے ہیں۔
ویڈیو میں بچے آہستہ آہستہ اسٹریچر اٹھاتے ہیں اور جنازے کا عمل انجام دیتے ہیں، یہ کوئی خیالی کھیل نہیں بلکہ وہی کچھ ہے جو وہ اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غم ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ کھلونوں یا کھیل کے بجائے یہ بچے جنازوں کی نقل کر رہے ہیں کیونکہ یہ منظر اب ان کے لیے معمول بن چکا ہے۔
Gaza children hold funerals for dolls reflecting a generation shaped by war.
| #GazaGenocide pic.twitter.com/Dcdrd19WJe
— Ika Ferrer Gotić (@IkaFerrerGotic) March 30, 2026
صارفین کا کہنا ہے کہ یہ گڑیا ان لوگوں کی علامت ہے جنہیں وہ کھو چکے ہیں، ان مناظر کی جو وہ دیکھ چکے ہیں اور اس درد کی جسے وہ پوری طرح سمجھنے کے لیے ابھی بہت چھوٹے ہیں لیکن محسوس کر رہے ہیں۔
یونیسف کے مطابق غزہ میں بچوں اور خاندانوں کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بنیادی سہولیات تباہ ہو چکی ہیں، اسکول بار بار حملوں کا شکارہیں اور غذائی قلت بچوں کی زندگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ انسانی امداد کی ضرورت اب انتہائی سنگین ہو گئی ہے جبکہ بچوں میں ذہنی صدمہ اور تحفظ کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 سے 5 جنوری 2025 کے درمیان 42,200 خواتین، بچے اور بزرگ ہلاک ہوئے، جو کل پُرتشدد اموات کا 56 فیصد بنتے ہیں۔ میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق، اسی دوران 78,318 افراد ہلاک ہوئے، اور غزہ میں اوسط عمر 2023 میں 44 فیصد اور 2024 میں 47 فیصد کم ہو گئی۔














