سعودی عرب کی تحمل پالیسی؟

جمعہ 3 اپریل 2026
author image

سبوخ سید

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا نظر آتا ہے۔ ایران کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی، پراکسی محاذوں کی سرگرمیاں، اور خطے میں موجود اسٹریٹجک تناؤ نے ہر اس مبصر کو پریشان کر رکھا ہے جو جانتا ہے کہ ایک چھوٹی سی چنگاری بھی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ مگر اس تمام صورتحال میں ایک عنصر ایسا ہے جس نے اس آگ کو پھیلنے سے روکے رکھا ہے، اور وہ ہے سعودی عرب کا محتاط اور ضبط پر مبنی رویہ۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک علاقائی طاقت ہے، جس کے فیصلے پورے خطے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایران کے ساتھ اس کی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ یمن، شام، عراق اور لبنان جیسے محاذ اس کشمکش کے گواہ ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ واقعات میں سعودی عرب نے براہ راست ردعمل دینے کے بجائے غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:حکومتی و نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، سعودی بینکوں میں ریکارڈ ڈپازٹس

ایران کی جانب سے عرب ممالک پر اشتعال انگیز حملوں کے باوجود سعودی قیادت نے فوری عسکری ردعمل سے گریز کیا۔ اس حکمت عملی کو محض کمزوری سمجھنا غلط ہوگا۔ درحقیقت یہ ایک سوچا سمجھا اسٹریٹجک فیصلہ ہے، جس کا مقصد جنگ کو ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔

اگر سعودی عرب براہ راست جوابی کارروائی کرتا تو اس کے اثرات صرف ایران اور سعودی عرب تک محدود نہ رہتے۔ خلیج کے دیگر ممالک، تیل کی عالمی منڈیاں، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے سب اس جنگ کی لپیٹ میں آ سکتے تھے۔ ایسے میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگتا اور ایک نیا عالمی بحران جنم لے سکتا تھا۔

سعودی عرب نے اس کے برعکس سفارتی راستہ اختیار کیا۔ حالیہ برسوں میں چین کی ثالثی سے ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس مفاہمت نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے امکانات کو کم کیا بلکہ پراکسی جنگوں کی شدت کو بھی کسی حد تک قابو میں رکھا۔ اس دوران پاکستان کا کردار بھی محاذوں سے ہٹ کر سفارتی سطح پر نہایت اہم رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں اسلام آباد ایک فعال سفارتی چینل کے طور پر ابھرا ہے، جو نہ صرف کشیدگی کم کرنے بلکہ ممکنہ مذاکرات کے لیے بھی ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد راستہ فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج توازن برقرار رکھنا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ حساس جغرافیائی سرحد اور تاریخی روابط بھی موجود ہیں۔ اسی لیے پاکستان نے ہمیشہ کھلے فریق بننے کے بجائے محتاط سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔

پاکستان میں سعودی عرب کے سابق سفیر اور مفکر ڈاکٹر علی عواض العسیری نے اپنے حالیہ مضمون میں اس سفارتی پیش رفت کے اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس نے ایک نئی سفارتی جہت کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ اعتماد مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی سفیر کی سعودی عرب میں اپنے شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی خلیج سے بحیرہ احمر تک پھیل چکی ہے اور عالمی توانائی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ اس سے قبل ریاض میں ہونے والی مشاورت میں مسلم ممالک نے سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر متفقہ مؤقف اختیار کیا تھا، جس نے اس سفارتی عمل کی بنیاد رکھی۔

اسلام آباد اجلاس نے اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ واشنگٹن اور تہران دونوں پاکستان کی سہولت کاری کو قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ پاکستان نے اپنی متوازن اور پائیدار سفارت کاری کے ذریعے امریکہ، ایران، سعودی عرب اور چین کے ساتھ بیک وقت روابط برقرار رکھ کر ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے۔ اس عمل کو وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت کی سطح پر مکمل ہم آہنگی اور حمایت حاصل رہی، جس نے پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے براہ راست سکیورٹی خطرات کے باوجود غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کو بڑھنے سے روکا اور سفارتی حل کو ترجیح دی۔ اس نے دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات سے گریز کیا جو جنگ کو مزید وسعت دے سکتے تھے، جو ایک واضح اسٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم خطے میں پراکسی جنگوں کی شدت، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل اور عالمی توانائی سپلائی کو درپیش خطرات صورتحال کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔

حالیہ کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور ہر ممکن حد تک کشیدگی کو کم کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی قیادت نے بارہا یہ پیغام دیا کہ مسلم دنیا کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے اتحاد اور استحکام کی طرف بڑھنا ہوگا۔ پاکستان نے نہ صرف خود کو براہ راست تصادم سے دور رکھا بلکہ پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے بھی ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی۔ اس پالیسی نے سعودی عرب کے تحمل کو ایک طرح کی اخلاقی اور سفارتی تقویت بھی فراہم کی۔

پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ کسی بڑے علاقائی تصادم کی صورت میں اس کے اثرات براہ راست پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں، خصوصاً توانائی، تجارت اور داخلی سلامتی کے حوالے سے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے “نان الائنڈ مگر انگیجڈ” حکمت عملی اپنائی، جس میں نہ مکمل غیر جانبداری ہے اور نہ مکمل لاتعلقی۔

پاکستان کا یہ کردار دراصل ایک بفر کی حیثیت رکھتا ہے، جو بڑے تصادم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں، کیونکہ عالمی اور علاقائی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ حالات میں پاکستان کا محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنے میں ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سعودی تحمل کی وجہ سے پاکستان میں لاکھوں گھروں کے چولہے جل رہے ہیں۔ اگر صرف پاکستان کی بات کی جائے تو اس وقت عرب ممالک میں تقریباً 52 لاکھ پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد سعودی عرب میں ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں بھی بڑی تعداد کام کر رہی ہے۔ ایسی صورت میں اگر ان ممالک میں عدم استحکام یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست لاکھوں پاکستانی خاندانوں کے معاشی استحکام پر پڑیں گے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اپنی معیشت کو تیزی سے تبدیل کرنے کے عمل میں ہے۔ وژن 2030 کے تحت معاشی تنوع، سیاحت، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی جیسے منصوبے جاری ہیں۔ ایسے میں ایک بڑی جنگ ان تمام کوششوں کو سبوتاژ کر سکتی تھی۔ اس لیے سعودی قیادت کے لیے امن نہ صرف ایک اخلاقی انتخاب ہے بلکہ ایک بڑی معاشی ضرورت بھی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: زعفران کی پیداوار میں اہم سنگ میل عبور، عالمی معیار حاصل کرلیا

سعودی تحمل کا ایک اور پہلو علاقائی قیادت کا تصور ہے۔ سعودی عرب نے خود کو ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کیا ہے، جو اشتعال کے بجائے استحکام کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دیگر خلیجی ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے۔

تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ بعض حلقے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ زیادہ تحمل کہیں مخالف کو مزید جرات مند تو نہیں بنا رہا۔ اگر ایران یا اس کے حلیف یہ سمجھیں کہ سعودی عرب ردعمل نہیں دے گا تو وہ اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتے ہیں۔ یہ ایک نازک توازن ہے جسے برقرار رکھنا آسان نہیں۔

اس کے باوجود، موجودہ صورتحال میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سعودی عرب کا محتاط رویہ ایک بڑے علاقائی تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس نے جنگ کو محدود رکھا ہے، اسے ایک وسیع جغرافیائی دائرے میں پھیلنے سے روکا ہے، اور عالمی سطح پر ایک بڑے بحران کے امکانات کو کم کیا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ یہ توازن کب تک برقرار رہ سکتا ہے؟ کیا سفارت کاری ہمیشہ عسکری دباؤ پر غالب رہ سکتی ہے، یا پھر ایک ایسا لمحہ آئے گا جب تحمل کی جگہ ردعمل لے لے گا؟

فی الحال، سعودی عرب نے یہ ثابت کیا ہے کہ بعض اوقات جنگ نہ لڑنا بھی ایک بڑی حکمت عملی ہوتی ہے، اور شاید یہی وہ فیصلہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور بڑی آگ میں جھلسنے سے بچا رکھا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟