ایران اور امریکا اسرائیل جنگ میں اب یہ نکتہ اہم نہیں رہا کہ امریکا کے اہداف پورے ہوں گے یا نہیں؟
صدر ٹرمپ اتنی زیادہ متضاد باتیں ایک ہی تقریر میں کہہ دیتے ہیں کہ اس میں سے کوئی مطلب نکالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی حملے کے 3 بنیادی اہداف تھے، ایران میں رجیم چینج، ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو مکمل ختم کرنا اور اس کے میزائل حملے کی کیپسٹی ختم کرنا۔ یہ بات اس وقت بڑے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ایران میں رجیم چینج نہ ہوئی نہ اس وقت ممکن ہے۔ ایران کی میزائل اور ڈرون پھینکنے کی صلاحیت کسی حد تک کمزور ہوئی ہے،مگر مکمل ختم نہیں ہوسکی۔
ایران کی موزیک ڈیفنس اسٹریٹجی کامیاب رہی، اسی وجہ سے ہزاروں حملوں کے بعد بھی ایرانی جوابی وار کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ البتہ یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام محدود ہوجائے یا ان تنصیبات کو نقصان پہنچے اور اگلے کچھ عرصے کے لیے یہ پروگرام غیر اہم ہوجائے۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
اس وقت اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی امریکا کو واپس پتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی کس حد تک حقیقی ہے اور امریکا اس کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے؟ یہ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی/اسرائیلی حملوں میں ایران کی شہروں کے درمیان رابطہ سڑکوں، پلوں وغیرہ کو نشانہ بنایا جائے، پاور اسٹیشن، آئل مراکز، ریفائنری وغیرہ بھی ہٹ ہوسکتی ہے۔ بدترین صورتحال یہ ہوسکتی ہے کہ خارگ جزیرے پر شدید بمباری کر کے وہاں موجود اہم اسٹرکچر تباہ کر دیا جائے۔
ایران کے جوابی آپشنز
سوال یہ ہے کہ ایران جواب کیا دے گا؟ آبنائے ہرمز کو ایران نے بند کیا ہوا ہے اور بظاہر امریکا اس وقت اسے کھلوانے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم ایران آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر بند بھی نہیں کرسکتا۔
ایران کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے شدید حملوں کے جواب میں اسرائیل پر بھی شدید جوابی حملے کرے۔ ایران اسرائیل کے پاور پلانٹ کو 2-3 بار نشانہ بنانے کی کوشش کرچکا ہے، مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ ایران کے لیے مسئلہ یہی ہے کہ اسرائیل میں ملٹی لیئرڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز موجود ہیں۔ تھاڈ، پیٹرائٹ،آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ، ایرو وغیرہ۔ اسی وجہ سے 90-95 فیصد میزائل گرنے سے پہلے تباہ کردیے جاتے ہیں، تاہم 10 میں سے ایک یا 2 میزائل ضرور اپنے ٹارگٹ پر گر کر نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ اور بات کہ شدید ترین سنسر پابندیوں کی وجہ سے ان نقصانات کی تصاویر، ویڈیوز وغیرہ سامنے نہیں آ رہیں۔
اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایران اس جنگ کو پورے خطے میں نہ پھیلا دے۔ وہ اپنے اوپر ہونے والے شدید حملوں کے جواب میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر وغیرہ پر میزائل حملے کرسکتا ہے، عمان پر بھی حملے ہوسکتے ہیں۔ بدترین منظرنامہ یہ ہوگا کہ ایران خلیجی عرب ریاستوں میں پاور اسٹیشن، آئل مراکز، آئل ریفائنری وغیرہ کو نشانہ بنائے۔ یہ بہت ہی خوفناک اور نہایت تباہ کن اقدام ہوگا۔ پورے خطے اور خود ایران کے لیے۔ درحقیقت یہ ایک طرح سے خودکشی ہوگی۔
پاکستانی قیادت کی سرتوڑ کوشش ہے کہ جنگ بند ہو جائے اور خدانخواستہ جنگ جاری بھی رہے تو کم از کم یہ پورے خطے میں نہ پھیلے اور سعودی عرب وغیرہ شامل نہ ہوں۔ پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہتا ہے، مگر یہ تب تک ہی ممکن ہے، جب تک ایران سعودی عرب پر حملے نہیں کرتا۔ سعودی عرب پر شدید حملے ہوئے تو پاکستان کو مجبوراً سہی، مگر ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔
عرب ریاستوں پر حملوں کا جواز کمزور ہے
ایران اور پرو ایران حلقے اپنے بیانیہ میں خلیجی عرب ریاستوں پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا جواز یہ بناتے ہیں کہ ان ممالک میں موجود امریکی بیسز سے ایران پر حملے ہو رہے ہیں، اس لیے ایران پر جوابی حملے کر سکتا ہے۔
یہ پرو ایران بیانیہ تکنیکی، اصولی اور منطقی طور پر درست نہیں۔ اس لیے کہ یہ خلیجی عرب ریاستیں اس جنگ میں براہ راست فریق نہیں۔ انہوں نے اپنی سی پوری کوشش کی ہے کہ امریکا ان کی زمین اور فضا استعمال نہ کرے۔ سعودی عرب سمیت دیگر تمام عرب ممالک نے ایران کے خلاف جارحیت کا اعلان کیا اور نہ ہی وہ امریکا کے سہولت کار ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ایران نے اسرائیل سے زیادہ حملے تو ان عرب ممالک پر کیے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں سعودی دفاعی نظام نے 57 میزائل اور ایک ہزار 6 ڈرون گرائے ہیں۔ جی ایک ہزار ڈرون جبکہ کویت پر ایران نے 300 بیلسٹک میزائل اور 600 سے زائد ڈرون پھینکے۔ قطر پر ایران نے 206 میزائل، 90 ڈرونز اور 2 جنگی طیاروں سے حملے کیے ہیں جن سے قطر کے ایل این جی پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا اور اربوں ڈالر سے زیادہ ری پیئر کرانے پر خرچ کرنے پڑیں گے۔ متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا، اس پر 400 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار کے قریب ڈرون پھینکے گئے، اسی طرح بحرین نے بھی ایران کے پونے 2 سو میزائل اور 300-400 ڈرون گرائے۔ اتنے زیادہ حملوں کے باوجود عرب ممالک کا جواب نہ دینا بہرحال ان کے غیر معمولی تحمل اور برداشت کا ثبوت ہے۔
عرب ممالک میں امریکی بیسز کا باعث ایران بنا
اصل سوال یہ ہے کہ خلیجی عرب ریاستیں اس مقام تک پہنچی ہی کیوں؟ کیا انہوں نے شوقیہ طور پر امریکا کو اپنے ہاں جگہ دی، یا یہ ایک مجبوری تھی؟ یہ بات ممکن ہے ایران نواز حلقوں کو پسند نہ آئے مگر سچ یہی ہے کہ گزشتہ 2 عشروں کے دوران ایرانی پالیسیوں کے باعث ایسا ہوا۔
ایران اگر مڈل ایسٹ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے پراکسی پراکسی نہ کھیلتا تو آج عالم عرب میں شاید ایک بھی امریکا بیس نہ ہوتا۔ ایران کی پراکسیز نے ہر ملک کو پریشان کیا۔ شام میں اس کی براہِ راست عسکری مداخلت اور سفاک شامی آمر بشار الاسد کی اندھی حمایت جبکہ عراق میں پرو ایران ملیشیاز کی پشت پناہی اور پھر لبنان میں حزب اللہ کو طاقتور بنانا جبکہ یمن میں حوثیوں کو جنگ پر آمادہ کرنا۔ بحرین میں شیعہ آبادی کو متحرک کرنے کی کوششیں اور سعودی عرب میں عدم استحکام کے خدشات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایران کی جامع اور مضبوط پالیسی کا حصہ رہا۔
اس کے ساتھ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ایک مستقل خوف کا باعث بنا۔ ان میزائلوں کی رینج پورے خلیج تک محیط ہے، جہاں تیل کے بڑے ذخائر، صنعتی مراکز اور گنجان آباد شہر واقع ہیں۔ یہ خطرہ محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی نوعیت کا ہے۔ یمن سے حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پراکسی وار کس طرح براہِ راست سلامتی کے خطرات میں بدل سکتی ہے۔
ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی نے اس جارحانہ پراکسی وار اسٹریٹجی کی بنیاد رکھی اور اس سے عرب ممالک میں عدم تحفظ پیدا ہوا۔ انہیں اپنے تحفظ کے لیے امریکا کی طرف دیکھنا پڑا۔ جب کوئی ریاست خود کو مسلسل دباؤ، غیر یقینی اور غیر روایتی خطرات میں گھرا محسوس کرے تو وہ کسی بڑی طاقت کے سائے میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
ہم پاکستانیوں کے لیے اس بات کو سمجھنا مشکل نہیں۔ جیسے بھارت کے جارحانہ ایجنڈے نے پاکستان کو پہلے ایٹمی پروگرام اور پھر اپنے میزائل پروگرام پر مجبور کیا۔ پاکستان عسکری قوت اور ہتھیار لینے کی خاطر چین سے جڑ گیا۔ اگر بھارت ایک پرامن، معشیت کو ترجیح دینے والا ہمسایہ ملک ہوتا تو شاید پاکستان بھی اپنا زیادہ تر بجٹ عوامی فلاح اور معاشی ترقی پر خرچ کررہا ہوتا۔ بھارت کے بڑے دفاعی بجٹ نے ہمیں کاؤنٹر کرنے کے لیے اچھی عسکری صلاحیت پیدا کرنے پر مجبور کردیا۔ ماضی میں پاکستان سیٹو اور سنٹو جیسے امریکی اتحادوں میں بھارتی خطرے کی وجہ سے شامل ہوا کہ مغرب کی سپورٹ حاصل کی جا سکے۔
یہی عرب ممالک کے ساتھ ایران نے کیا۔ عراق کا شط العرب کے بہانے ایران پر حملہ ایک غلطی تھی۔ عالم عرب اس میں غلط جگہ کھڑا تھا۔ تاہم عراق ایران جنگ تو 1988میں ختم ہوگئی۔ اس کے بعد ایران اگر عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلق کو بہتر نہیں بنا سکا، کشیدگی اور عدم تحفظ کم نہیں ہو پایا تو اس کی ذمہ داری ایرانی قیادت اور ان کی پراکیسز پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اگر 50 فیصد نہیں تو 45-47 فیصد قصور یقیناً ان کا تھا۔
ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ایران کے پاس بھی یہ موقع ہے۔ وہ کڑی مشکل میں ہے، مگر اس کی یہ مشکل عرب ممالک کی وجہ سے ہرگز نہیں۔ اس کے دشمن امریکا اور اسرائیل ہیں۔ ایران اپنا فوکس ادھر ہی رکھے۔ ایران کو مستقبل میں خلیجی عرب ممالک کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔ پاکستان بھی اس کا ساتھ دے گا۔ ضروری ہے کہ ایران، عرب ممالک کو اپنا دشمن یا حریف نہ سمجھے۔
خلیجی عرب ریاستیں اس بحران کی خالق نہیں۔ ایران اگر انہیں قصور وار ٹھہرا کر نشانہ بنائے تو یہ زیادتی ہوگی۔ پورا خطہ ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں آجائے گا، جس سے نکلنا پھر کسی کے لیے بھی ممکن نہیں رہے گا۔ کاش ایرانی قیادت ہوش اور تدبر سے کام لے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













