چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے عرب اسلامی ممالک میں مقیم پاکستانی بشہریوں کے لیے اہم پیغام جاری کیا ہے۔
اپنے ویڈیو بیان میں حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان، اامریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ بھی کھڑا ہے۔ اسی طرح پاکستان کا موقف واضح ہے کہ عرب اسلامی ممالک پر حملے ناقابل قبول ہیں اور یہ حملے فوراً بند کیے جائیں، بالکل اسی طرح جیسے ہم اامریکا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اور اسرائیل ایران پر حملے بند کریں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور خلیج تعاون کونسل نے بارہا کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی زمین اور فضائیں ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی ہیں۔ یہ بات سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، ایرانی صدر اور ہمارے وزیر خارجہ اور وزیراعظم جناب اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں بھی کہی ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستانی شہیریوں کو ان ممالک کے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ اگر کوئی پابندی ہے کہ آپ ویڈیو نہ بنائیں، تصویر نہ لیں یا کوئی ممنوع چیز شیئر نہ کریں تو اس سے دور رہیں۔ پاکستان یہ جانتا ہے اور آپ کو بھی جاننا چاہیے کہ 50 ملین پاکستانی اس وقت عرب اسلامی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کو کوئی قدم ایسا نہیں اٹھانا چاہیے جو اپنے بھائیوں یا ان 50 ملین پاکستانیوں کے لیے مشکلات پیدا کرے۔ ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ الحمدللہ، اس وقت پاکستان کی عالمی سطح پر بہت باوقار حیثیت ہے اور پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں۔ آپ کی قیادت، فیلڈ مارشل حافظ آصف منیر، میاں شہباز شریف اور ہمارے وزیر خارجہ جناب اسحاق ڈار کی کوششوں کی پوری دنیا تعریف کر رہی ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایک ذمہ دار پاکستانی کے طور پر ہمیں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو ان ممالک، خصوصاً خلیجی ممالک میں ہمارے بھائیوں کے لیے مسائل پیدا کرے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے اسلامی بھائی ممالک، عرب ممالک کے ساتھ تعاون کرتا آیا ہے اور یہ تعاون موجود ہے۔
انہوں نے خاص طور پر سعودی عرب کی مقدس سرزمین کے حوالے سے کہا کہ کوئی یہ غلط فہمی نہ رکھے کہ ہمارا تعلق صرف سفارتی یا جغرافیائی مفادات کے لیے ہے۔ ہمارا تعلق ایمان اور عقیدت کا ہے اور یہ تعلق ہمیشہ قائم رہے گا۔ ہر مشکل اور آسان وقت میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر، خصوصاً خلیجی ممالک اور عمومی طور پر عرب اسلامی ممالک میں، پاکستانی مکمل طور پر وہاں کے قوانین کی پابندی کریں اور ہر ایسی چیز سے دور رہیں جس سے انہیں منع کیا گیا ہو۔ الحمدللہ پاکستان کی پالیسی بہت واضح ہے اور یہ ہر جگہ قابل احترام ہے۔ ہم اپنے اسلامی عرب بھائی ممالک کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی ہمارا پڑوسی ایران، ہمارا اسلامی بھائی، الگ ہے۔ ہمارا مقصد امن قائم کرنا ہے اور ان شاء اللہ یہ کامیاب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تعلق ہے، تو ہمارا سب کچھ حرمین شریفین کے لیے وقف ہے اور کوئی بھی اس میں غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔











