مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں نے اسرائیلی پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ کے قریب جمعہ کی نماز ادا کی، جہاں اسرائیلی فورسز کی جانب سے مقدس مقام تک رسائی محدود کردی گئی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے اولڈ سٹی کے داخلی راستے بند کر دیے، جس کے باعث نمازی مسجد اقصیٰ تک نہ پہنچ سکے اور انہیں قریبی سڑکوں اور علاقوں میں نماز ادا کرنا پڑی۔ متعدد افراد نے نابلس سڑک کے قریب بس اڈے کے اطراف نماز ادا کی جبکہ علاقے میں سیکیورٹی کی بھاری نفری تعینات رہی۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی
رپورٹس کے مطابق مسلسل 5ویں جمعہ کو بھی پرانے شہر کے مذہبی مقامات تک رسائی پر سخت پابندیاں برقرار رہیں، جن میں مسجد اقصیٰ اور ایک اہم مسیحی عبادت گاہ بھی شامل ہے۔ مبصرین کے مطابق 1967 میں شہر پر قبضے کے بعد یہ طویل ترین مسلسل پابندیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
مسجد اقصیٰ کو مسلسل 35 دن سے بند رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس اقدام کو سیکیورٹی صورتحال اور ہنگامی حالت سے جوڑا، جبکہ فلسطینی مذہبی اور سرکاری حلقوں نے اسے بنیادی مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادھر شہر کے ایک مرکزی دروازے کے قریب ایک فلسطینی نوجوان کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ سعد و سعید مسجد سے باہر نکلا۔ عینی شاہدین کے مطابق گرفتاری کے دوران اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ اسی طرح مسرارہ علاقے میں ایک معمر شخص کو مسجد اقصیٰ کی صورتحال پر خطبہ دینے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حکام نے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں رمضان کا پہلا جمعہ پڑھنے سے روک دیا
اسرائیلی فورسز نے اولڈ سٹی کے داخلی راستوں پر متعدد فوجی چوکیاں قائم کر کے اہم شاہراہیں بند کر دیں، جس سے عبادت گاہوں تک رسائی مزید محدود ہو گئی۔
مذہبی اور سرکاری اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بعض یہودی گروہ مذہبی تہوار کے موقع پر احاطہ اقصیٰ میں داخلے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے مطالبات تیز کر رہے ہیں۔
پابندیوں کے باوجود فلسطینی نمازی اطراف کے علاقوں میں جمع ہوتے رہے، جسے مقامی افراد اپنے مذہبی حق پر قائم رہنے کے عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔














