امریکی صدر ڈؤنلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز مالی سال 2027 کے لیے بجٹ میں دفاع کے علاوہ دیگر صوابدیدی اخراجات میں 10 فیصد کمی جبکہ دفاعی بجٹ میں 500 ارب ڈالر کے بڑے اضافے کی درخواست کر دی ہے۔
یہ بجٹ تجویز ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے جب انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور اندرونِ ملک عوام بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں کے باعث معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے
یہ بجٹ حتمی منظوری کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں ٹرمپ کے اخراجاتی فیصلوں پر اختلافات ماضی میں امریکی تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا سبب بھی بن چکے ہیں۔
بجٹ میں دفاعی اخراجات کو بڑھا کر 1.5 کھرب ڈالر تک لے جانے کی تجویز دی گئی ہے، جو 2026 کے تقریباً 1 کھرب ڈالر سے نمایاں اضافہ ہے۔
UPDATED: Trump budget seeks $1.5T in defense spending alongside cuts in domestic programs https://t.co/GRUnoNXqZH
— The Washington Times (@WashTimes) April 3, 2026
اس میں فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں 5 سے 7 فیصد اضافہ بھی شامل ہے، جبکہ ہزاروں اہلکار بیرون ملک تعینات ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس اضافی دفاعی بجٹ میں میزائل دفاعی نظام گولڈن ڈوم، دفاعی صنعت کے لیے اہم معدنی ذخائر کی فراہمی اور 34 نئے جنگی و معاون بحری جہازوں کی تعمیر کے لیے 65.8 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں نام نہاد ٹرمپ کلاس جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا تنازع: پاکستان کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، چین
ادھر پینٹاگون پہلے ہی جنگ کے لیے 200 ارب ڈالر اضافی فنڈز طلب کر چکا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اسے باضابطہ طور پر کانگریس میں پیش نہیں کیا، جہاں دونوں جماعتوں کی جانب سے سخت جانچ پڑتال متوقع ہے۔
بجٹ دستاویز میں سوشل سیکیورٹی اور میڈی کیئر جیسے بڑے لازمی اخراجات پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا گیا، کیونکہ ان میں ممکنہ کٹوتیاں سیاسی طور پر حساس سمجھی جاتی ہیں۔

اسی طرح نئے اخراجات کے باعث بجٹ خسارے پر اثرات بھی واضح نہیں کیے گئے، جبکہ کانگریس کے بجٹ آفس کے مطابق مالی سال 2026 میں خسارہ بڑھ کر 1.853 کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بجٹ میں متعدد وفاقی پروگرامز میں کٹوتیوں کی تجویز دی ہے، جنہیں غیرضروری یا سیاسی طور پر استعمال ہونے والے قرار دیا گیا، جبکہ گرین انرجی منصوبوں اور محکمہ انصاف کے تقریباً 30 پروگرامز ختم کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے چینی کمپنی پر ایران سے خفیہ تعاون کا الزام عائد کردیا
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے محکمہ انصاف کے بجٹ میں 13 فیصد اضافہ اور امیگریشن و داخلی سیکیورٹی کے لیے 2.2 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں حراستی مراکز کی گنجائش بڑھانا بھی شامل ہے۔
مزید برآں، ہوائی اڈوں پر عملے کی کمی اور فضائی تحفظ کے خدشات کے پیش نظر ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی بھرتی کے لیے 48 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں ٹرمپ کے ذاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز شامل ہیں، جن میں واشنگٹن ڈی سی میں تعمیروتزئین کے منصوبوں کے لیے 10 ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔












