ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی بجٹ ریکارڈ حد تک بڑھانے اور فلاحی منصوبے محدود کرنے کا منصوبہ پیش کردیا

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈؤنلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز مالی سال 2027 کے لیے بجٹ میں دفاع کے علاوہ دیگر صوابدیدی اخراجات میں 10 فیصد کمی جبکہ دفاعی بجٹ میں 500 ارب ڈالر کے بڑے اضافے کی درخواست کر دی ہے۔

یہ بجٹ تجویز ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے جب انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور اندرونِ ملک عوام بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں کے باعث معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے

یہ بجٹ حتمی منظوری کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں ٹرمپ کے اخراجاتی فیصلوں پر اختلافات ماضی میں امریکی تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کا سبب بھی بن چکے ہیں۔

بجٹ میں دفاعی اخراجات کو بڑھا کر 1.5 کھرب ڈالر تک لے جانے کی تجویز دی گئی ہے، جو 2026 کے تقریباً 1 کھرب ڈالر سے نمایاں اضافہ ہے۔

اس میں فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں 5 سے 7 فیصد اضافہ بھی شامل ہے، جبکہ ہزاروں اہلکار بیرون ملک تعینات ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس اضافی دفاعی بجٹ میں میزائل دفاعی نظام گولڈن ڈوم، دفاعی صنعت کے لیے اہم معدنی ذخائر کی فراہمی اور 34 نئے جنگی و معاون بحری جہازوں کی تعمیر کے لیے 65.8 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں نام نہاد ٹرمپ کلاس جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔

 مزید پڑھیں: ایران امریکا تنازع: پاکستان کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، چین

ادھر پینٹاگون پہلے ہی جنگ کے لیے 200 ارب ڈالر اضافی فنڈز طلب کر چکا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اسے باضابطہ طور پر کانگریس میں پیش نہیں کیا، جہاں دونوں جماعتوں کی جانب سے سخت جانچ پڑتال متوقع ہے۔

بجٹ دستاویز میں سوشل سیکیورٹی اور میڈی کیئر جیسے بڑے لازمی اخراجات پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا گیا، کیونکہ ان میں ممکنہ کٹوتیاں سیاسی طور پر حساس سمجھی جاتی ہیں۔

اسی طرح نئے اخراجات کے باعث بجٹ خسارے پر اثرات بھی واضح نہیں کیے گئے، جبکہ کانگریس کے بجٹ آفس کے مطابق مالی سال 2026 میں خسارہ بڑھ کر 1.853 کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے بجٹ میں متعدد وفاقی پروگرامز میں کٹوتیوں کی تجویز دی ہے، جنہیں غیرضروری یا سیاسی طور پر استعمال ہونے والے قرار دیا گیا، جبکہ گرین انرجی منصوبوں اور محکمہ انصاف کے تقریباً 30 پروگرامز ختم کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے چینی کمپنی پر ایران سے خفیہ تعاون کا الزام عائد کردیا

دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے محکمہ انصاف کے بجٹ میں 13 فیصد اضافہ اور امیگریشن و داخلی سیکیورٹی کے لیے 2.2 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں حراستی مراکز کی گنجائش بڑھانا بھی شامل ہے۔

مزید برآں، ہوائی اڈوں پر عملے کی کمی اور فضائی تحفظ کے خدشات کے پیش نظر ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی بھرتی کے لیے 48 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں ٹرمپ کے ذاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز شامل ہیں، جن میں واشنگٹن ڈی سی میں تعمیروتزئین کے منصوبوں کے لیے 10 ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟