سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی اپیل پر 8 اپریل کو سماعت مقرر کر دی ہے۔ تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ کریں گے، اپیل کا جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی اپیل مسترد، جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا
یہ مقدمہ 2021 میں اسلام آباد میں پیش آنے والے اندوہناک واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا تھا، جب 27 سالہ نور مقدم کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق مقتولہ کو قتل سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس نے خواتین کے خلاف تشدد اور قانونی انصاف کے نظام پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا۔

یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ریپ کیس میں بھی سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا، جبکہ شریک ملزمان کی سزاؤں میں نرمی کی گئی تھی۔
اب عدالت عظمیٰ میں دائر نظرثانی اپیل پر سماعت کو اس اہم کیس میں ایک اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر پورے ملک کی نظریں مرکوز ہیں۔














