نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی نظرثانی اپیل پر سماعت 8 اپریل کو مقرر

ہفتہ 4 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی اپیل پر 8 اپریل کو سماعت مقرر کر دی ہے۔ تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ کریں گے، اپیل کا جائزہ لے گا۔

یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی اپیل مسترد، جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا

یہ مقدمہ 2021 میں اسلام آباد میں پیش آنے والے اندوہناک واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا تھا، جب 27 سالہ نور مقدم کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق مقتولہ کو قتل سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس نے خواتین کے خلاف تشدد اور قانونی انصاف کے نظام پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا۔

نور مقدم

یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ریپ کیس میں بھی سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا، جبکہ شریک ملزمان کی سزاؤں میں نرمی کی گئی تھی۔

اب عدالت عظمیٰ میں دائر نظرثانی اپیل پر سماعت کو اس اہم کیس میں ایک اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر پورے ملک کی نظریں مرکوز ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیاسی و عسکری قیادت کی ہم آہنگی سے پاکستان کا وقار بلند، پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے بھی ایک سبق

فخر ہے کہ پاکستان نے دانشمندی سے ایران جنگ بندی و امن کے لیے کردار ادا کیا، صدر مملکت

جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ بہتر، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟

ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟