آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی جانب سے ٹول فیس چینی کرنسی یوآن میں ادا کیے جانے کی خبر کے بعد چین کی کراس بارڈر ادائیگیوں سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت تجارت کے ایک بیان کے بعد سرمایہ کاروں کا رجحان ان کمپنیوں کی جانب بڑھا، جس میں کہا گیا تھا کہ بعض جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے فیس یوآن میں ادا کی۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا تنازع: پاکستان کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، چین
کاروباری اعداد و شمار کے مطابق سی این پی سی کیپیٹل کمپنی کے شیئرز میں 7.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بیجنگ کوی وی ٹاور کمپنی کے حصص 10 فیصد تک بڑھ گئے۔ اسی طرح لاکالا پیمنٹ کمپنی اور شین ژین فارمز سنٹرون انفارمیشن کے شیئرز میں بھی بالترتیب 8 اور 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ تیزی اس وقت دیکھنے میں آئی جب وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں عالمی شپنگ جریدے ‘لائیڈز لسٹ’ کا حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کی فیس کسٹمز کلیئرنس کے بعد ایک ثالث کے ذریعے ادا کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی جہاز ٹول فیس تقریباً 20 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے، جسے چینی یوآن میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کو ٹیکنالوجی فراہمی کی خبروں پر چین کا شدید ردعمل
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی تجارت میں چینی کرنسی کے استعمال کو فروغ مل سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث اہم سمندری راستوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یوآن میں ادائیگی کا یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جس سے ڈالر کی بالادستی کو بھی چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔












