اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی جلد سماعت اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو قانونی مشاورت کے لیے وکیل سے ملاقات کی اجازت دینے کے لیے درخواستیں دائر کردی گئی ہیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی نے توشہ خانہ ون کیس میں 31 جنوری 2024 کو سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی جلد سماعت کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت میں عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کیخلاف سماعت، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب طلب
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اپیلیں اب تک ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں اور سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں، لہٰذا استدعا ہے کہ انہیں فوری طور پر سماعت کے لیے شیڈول کیا جائے۔
یہ درخواستیں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دائر کی ہیں۔
اسی دوران بیرسٹر سلمان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست بھی جمع کرائی ہے، جس میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر قانونی مشاورت کے لیے عمران خان کو وکیل سے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 20 دسمبر 2025 کے بعد سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اپنے وکیل سے مؤثر ملاقات کا موقع نہیں ملا، یعنی قریباً 3 ماہ اور 12 دن سے قانونی رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وکیل سے ملاقات کا حق جیل رولز 1978 اور آئین کے آرٹیکل 9، 10-اے اور 14 کے تحت بنیادی حق ہے۔ استدعا کی گئی کہ عدالت اپیل کی تیاری کے لیے دونوں اپیل کنندگان کو فوری اور بلا تعطل وکیل سے ملاقات کی اجازت دے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے ممبر سازی مہم، کیا پی ٹی آئی پرتشدد مظاہروں کا راستہ اپنانے جارہی ہے؟
درخواست میں چیئرمین نیب، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ سزا معطلی کی درخواست 19 مارچ 2025 سے زیر التوا ہے، جس پر اب تک 16 مختلف تاریخوں پر سماعت ہو چکی ہے، اور نیب کی جانب سے کیس کی کارروائی میں جان بوجھ کر تاخیر اور رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں۔













