چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت پی سی بی بورڈ آف گورنرز کا 82 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اہم امور پر غور کرتے ہوئے متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں مالی سال 2024-25 کے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی اسٹیٹمنٹس کی باضابطہ منظوری دی گئی، جبکہ آئی سی سی گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ کے مطابق پی سی بی کے پروسیجرل رولز بھی منظور کر لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: بال ٹیمپرنگ کیس، پی سی بی نے فخر زمان پر 2 میچوں کی پابندی عائد کردی
بورڈ نے سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے ساتھ جدہ میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون کے اظہارِ دلچسپی کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ جغرافیائی بنیادوں پر لاہور کے کرکٹ زونز کی نئی حد بندی اور ان کے ناموں پر نظرثانی کی بھی توثیق کی گئی۔
اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے فروغ میں نمایاں خدمات پر عبداللہ خرم نیازی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں عبداللہ خرم نیازی نے ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کے لیے بھرپور محنت کی۔
بورڈ آف گورنرز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے لیے ٹیموں کی ریکارڈ نیلامی پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل اب سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بن چکی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب یہ دنیا کی نمبر ون لیگ بن جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی اور سکندر رضا کی پی سی بی سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی
اجلاس میں بورڈ ممبران انوار احمد غنی، طارق سرور، عدنان ملک، سجاد کھوکھر، ظفر اللہ اور اسماعیل قریشی نے شرکت کی، جبکہ ظہیر عباس اور سیکرٹری کابینہ نے آن لائن اجلاس میں حصہ لیا۔
اس کے علاوہ چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل، چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی، چیف فنانشل آفیسر، ڈائریکٹر میڈیا، ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ، ڈائریکٹر کمرشل سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔














