بھارت کے معروف جریدے فرسٹ پوسٹ نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان ایک فعال اور مؤثر ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں اہم سہولت کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے کو ممکن بنایا ہے بلکہ اعلیٰ سطح پر بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی ہیں۔
یہ بھی پٌڑھیے: جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستانی کوششوں کا اعتراف، اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیرمقدم
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی کوششیں اس وقت مزید نمایاں ہوئیں جب پاکستان نے خطے کے دیگر اہم اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر امن اور مکالمے کی حمایت کی۔
فرسٹ پوسٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایک چین کی حمایت یافتہ 5 نکاتی امن تجویز بھی سامنے آئی، جس میں جنگ بندی، شہری اہداف کے تحفظ، بحری راستوں کی سلامتی اور خلیج و مشرق وسطیٰ میں استحکام پر زور دیا گیا۔
رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے ممالک کی حمایت بھی حاصل رہی، جس سے اس کے کردار کو مزید تقویت ملی۔ ایران اور امریکا دونوں نے ابتدائی طور پر اس سہولت کاری کے عمل کو قبول کیا اور رابطے جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔












