بھارتی شہر آگرہ میں ایک افسوسناک اور سنسنی خیز قتل کا انکشاف ہوا ہے جہاں ایک شخص کی جلی ہوئی لاش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے اس کے قتل کی گتھی ٹیٹو اور کیو آر کوڈ جیسے اہم شواہد کی مدد سے سلجھا لی۔
پولیس کے مطابق واقعہ آگرہ کے علاقے سائیان میں اس وقت سامنے آیا جب یکم اپریل کو ایک نیم سوختہ ہوئی لاش ملی،جس کی فوری شناخت ممکن نہیں تھی، تاہم مقتول کے جسم پر موجود ٹیٹو نے اس کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں باپ نے گھریلو جھگڑے کے دوران 9 ماہ کے بیٹے کو کلہاڑی سے قتل کر دیا
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مقتول کے قتل میں اس کی اہلیہ اور اس کے مبینہ آشنا سمیت دیگر افراد بھی ملوث ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند قتل تھا جس میں شواہد مٹانے کے لیے لاش کو جلایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ملزمان نے مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کی شناخت چھپانے کی کوشش کی، تاہم موقع پر ملنے والے شواہد، جن میں ٹیٹو اور کچھ کیو آر کوڈ سے جڑی معلومات شامل تھیں، پولیس کے لیے اہم ثابت ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ: گجرات قتل کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل
پولیس نے جدید تکنیکی مدد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا اور چند مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ قتل مبینہ طور پر ازدواجی تنازع اور ناجائز تعلقات کے باعث ہوا۔
حکام نے کہا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر پہلوؤں کو بھی جانچا جا رہا ہے تاکہ مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔














