دنیا بھر میں بچوں کو متاثر کرنے والی خطرناک بیکٹیریا بیماری Hib (ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی) کے کیسز میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن کی شرح میں کمی اس مہلک بیماری کی واپسی کا سبب بن سکتی ہے، جو ماضی میں ہزاروں بچوں کی جان لے چکی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’ہِب‘ ایک سنگین بیکٹیریا انفیکشن ہے جو خاص طور پر کم عمر بچوں میں دماغی سوزش (میننجائٹس)، نمونیا اور دیگر جان لیوا پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں نیپاہ وائرس سے نرس جاں بحق
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویکسین کی بدولت اس بیماری میں نمایاں کمی آئی تھی، لیکن اب دوبارہ کیسز سامنے آنے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’ہِب‘ ویکسین متعارف ہونے سے پہلے امریکا میں ہر سال تقریباً 20 ہزار بچے اس بیماری کا شکار ہوتے تھے جبکہ ایک ہزار تک اموات بھی ہوتی تھیں۔ ویکسین کے بعد یہ تعداد کم ہو کر چند درجن کیسز تک محدود ہو گئی، تاہم اب ویکسینیشن کی شرح میں معمولی کمی بھی خطرناک رجحان کا باعث بن رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بچوں کو لگنے والی ویکسین کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث ایسے کیسز سامنے آ رہے ہیں جو کئی سالوں سے ناپید ہو چکے تھے۔ بعض ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ برسوں بعد دوبارہ ’ہِب‘ کے مریض دیکھ رہے ہیں، جو تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ویکسینیشن کی رفتار مزید کم ہوئی تو اسپتالوں میں ایک بار پھر ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، خصوصاً کم عمر بچوں میں۔ ان کے مطابق ’ہِب‘ جیسی بیماری نہ صرف جان لیوا ہو سکتی ہے بلکہ بچوں کو مستقل معذوری کا شکار بھی بنا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:2026 کا پہلا پولیو کیس سامنے آگیا، ویکسینیشن کے باوجود وائرس کی گردش جاری
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام کا سب سے مؤثر ذریعہ ویکسین ہے، اور والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی مکمل ویکسینیشن یقینی بنائیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ماضی کی طرح یہ بیماری ایک بار پھر بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے، جس سے صحت کے نظام پر اضافی دباؤ پڑے گا۔













