وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مناسب ذخائر موجود ہیں اور حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے مسلسل اقدامات کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح، کفایت شعاری سے بچائی گئی رقم عوام پر خرچ کی جائےگی، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے نفاذ پر پیشرفت کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام شریک تھے۔ اجلاس میں انٹیلی جینس بیورو نے حکومتی کفایت شعاری اور سادگی اقدامات پر رپورٹ پیش کی اور ملک میں ایندھن کے ذخائر، کھپت اور سبسڈی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
شہباز شریف نے بتایا کہ مسافر بسوں کو ماہانہ ایک لاکھ روپے سبسڈی دی جارہی ہے، منی بس اور ویگنوں کو 40 ہزار روپے، مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار روپے اور ڈیلیوری وینوں کو 35 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا پیٹرول لیوی میں 80 روپے کم کرکے قیمت 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جارہی ہے اور یہ رقوم شفافیت کے اصول کے تحت ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔
وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کی قومی پیکیج کے لیے رقم جمع کروانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے باقی صوبے بھی جلد از جلد اپنی حصہ داری مکمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی ہدایت پر ٹول ٹیکس میں اضافہ واپس، عوام کو ریلیف فراہم
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں عوامی ریلیف پیکیج کے طور پر 129 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ پیٹرول پر فی لیٹر 80 روپے کی کمی کی گئی، پاکستان ریلوے کو 6 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے اور مسافر و مال گاڑیوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ ٹال ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ مشکل حالات میں ہر ممکن حد تک عوامی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے اور ملکی ایندھن کی ضروریات پورا کرنے کیلئے ذخائر کی صورتحال مستحکم ہے۔














