امریکا کی بڑی مسلم شہری حقوق تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیر) نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو ‘اشتعال انگیز’ اور ‘خطرناک’ قرار دیتے ہوئے امریکی کانگریس سے فوری اجلاس بلا کر ایران کے خلاف ممکنہ جنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے لکھا کہ منگل کا دن ‘پاور پلانٹ اور پلوں’ کے لیے ہوگا۔ انہوں نے تہران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ بھی کیا اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر ‘تم جہنم میں رہو گے، دیکھتے جاؤ’، ساتھ ہی انہوں نے ‘الحمدللہ’ کا جملہ بھی استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ کشیدگی: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کا وقت بتا دیا
کیر نے اپنے بیان میں کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ‘غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک’ ہیں اور یہ انسانی جانوں کے حوالے سے بے حسی کو ظاہر کرتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق مذہبی جملے کو جنگی دھمکیوں کے ساتھ استعمال کرنا اسلام اور مسلمانوں کے عقائد کی توہین کے مترادف ہے۔
تنظیم نے امریکی قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ تعطیلات ختم کرکے فوری اجلاس بلائیں اور جنگ و امن کے معاملات میں اپنی آئینی ذمہ داری ادا کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر کی جانب سے ‘کھلے عام جنگی جرائم’ کی باتیں قابل تشویش ہیں اور انہیں روکنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران میں امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو زخمی حالت میں ریسکیو کرلیا گیا، ٹرمپ کا دعویٰ
کیر نے مزید کہا کہ یہ بیانات کسی خلا میں نہیں دیے گئے بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف طویل عرصے سے جاری بیانات اور پالیسیوں کا تسلسل ہیں، جنہوں نے اندرون و بیرون ملک مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے۔












