وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی طویل مدتی فراہمی کے منصوبے اور حالیہ عالمی صورتحال کے تناظر میں برآمدات کی پیشرفت سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باوجود اور تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار متاثر نہیں ہوئی، جس کی بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کا بڑھتا ہوا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیل کے عالمی بحران کے دوران توانائی کے صاف اور قابل تجدید ذرائع پر اعتماد بڑھنے لگا، رپورٹ
انہوں نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع پاکستان کے توانائی شعبے کا مستقبل ہیں۔ وزیراعظم نے قابلِ تجدید توانائی کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار کا 55 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع جبکہ 45 فیصد حصہ فوسل فیول پر مشتمل ہے۔ آئندہ 10 برسوں میں قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ بڑھا کر 90 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے سمندری راستے سے برآمدات بڑھانے کے لیے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو جہازوں کے انتظام کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب سفارتکاری کے باعث خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی ترسیل جاری ہے، جبکہ زرعی اجناس کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی بندرگاہوں پر ریکارڈ آپریشنز: پاکستان عالمی توانائی کی ترسیل کا نیا ریجنل ہب بن کر سامنے آگیا
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء، وزیر مملکت برائے خزانہ، معاونین خصوصی، اسٹیٹ بینک کے گورنر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور توانائی و برآمدات کے حوالے سے بریفنگ دی۔














