سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر حالیہ ایرانی حملوں نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے بلکہ پاکستان کی جانب سے جاری امن کوششوں کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں اپنے حساس مرحلے میں داخل ہو رہی تھیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں چند گھنٹے باقی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی سعودی عرب پر تازہ حملوں کی شدید مذمت، غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہاکہ ایران کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد پاکستان پہلے ہی ایرانی قیادت کو واضح طور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مضبوط دفاعی معاہدہ موجود ہے، جو صرف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ پورے سعودی عرب کے دفاع کا احاطہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس تناظر میں سعودی عرب کی آئل ریفائنریز اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانا نہایت حساس معاملہ ہے، جس سے نہ صرف علاقائی استحکام متاثر ہوتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہاکہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران کے حوالے سے نہایت متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کے لیے جنگ بندی کی کوششوں میں سرگرم رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایرانی قیادت کے تحفظ اور مذاکراتی عمل کے تسلسل کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے حتیٰ کہ بڑی عالمی طاقتوں کو بھی یہ باور کرایا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات پورے امن عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہاکہ کہ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ ایران کے اندر کچھ عناصر سعودی عرب پر حملوں کے ذریعے پاکستان کو مشکل صورتحال میں ڈالنا چاہتے ہیں، تاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات متاثر ہوں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی قیادت کو فوری طور پر ان عناصر کی نشاندہی کرنی چاہیے جو امن عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے ایرانی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ سعودی عرب اور دیگر عرب اسلامی ممالک پر حملے فوری طور پر بند کرے اور امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا امن کے لیے دعاگو اور کوشاں ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان سفارتی سطح پر امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کررہا ہے، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر بھی اس عمل میں شامل ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملے، خصوصاً سعودی عرب کے ان مقامات کو نشانہ بنانا جن کا دفاعی امور سے کوئی تعلق نہیں، امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہاکہ سعودی عرب کے جس مقام پر حملہ کیا گیا اس کا دفاع یا دفاعی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہر وہ شخص جو امن چاہتا ہے اس کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ہم ایران سے بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ دیکھیں کہ کون لوگ ہیں جو امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور وہ سعودی عرب سمیت عرب اسلامی ممالک پر حملہ کر رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے اس صورتحال کو نہایت نازک قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے، خطے میں جاری سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں سعودی عرب بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بطور ثالث اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے وقت میں کسی بھی قسم کا حملہ یا اشتعال انگیز اقدام امن عمل کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر ایران کی سرزمین سے یا اس سے منسلک عناصر کی جانب سے ایسے حملے ہوئے ہیں تو ایرانی حکومت کو فوری طور پر اس کی وضاحت اور ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معذرت کرنی چاہیے، تاکہ اعتماد کی فضا برقرار رہ سکے۔
بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ کچھ بیرونی یا اندرونی قوتیں جان بوجھ کر مسلم ممالک کے درمیان تصادم کو ہوا دینا چاہتی ہیں، تاکہ خطے میں عدم استحکام پیدا ہو اور مذاکراتی عمل ناکام ہو جائے۔
انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اس پہلو کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطہ کسی بڑی جنگ یا تباہی سے محفوظ رہے اور تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ تاہم حالیہ حملوں نے ان کوششوں کو شدید متاثر کیا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو امن کا یہ نازک عمل مزید کمزور ہو سکتا ہے۔













